14 بچوں کی بھکارن ماں کو ایوارڈ

داؤد گلوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے مختلف شعبوں میں خواتین کے کردار کے اعتراف میں گورنرہاؤس کراچی میں لیڈیز فنڈ ویمنز ایوارڈ 2019ء کا انعقاد کیا گیا جس میں بھیک مانگنا چھوڑ کر کاروبار کرنے والی 14 بچوں کی بھکارن ماں سمیت 9 خواتین کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔

ان خواتین میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ایواکاؤس جی،  ثمینہ کماری، مائرہ قریشی، انیس راشد، فریحہ الطاف، حور، عظمیٰ نورانی اور بشریٰ عمران شامل ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے مرد و خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہے جب کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت خواتین کی ہر ممکن مددکرے گی ۔تقریب میں سفارت کار، سول سوسائٹی کے نمائندگان ، فنکاروں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔یہاں جاری بیان کے مطابق پاکستان کی خاتون اول ثمینہ علوی نے اس موقع پر خصوصی پیغام بھی بھجوایا۔گورنر سندھ عمران اسماعیل تقریب کے مہمان خصوصی تھے جب کہ جنگ اور جیو نیوز تقریب کے میڈیا پارٹنر تھے ۔اس ایونٹ کے اعزازی مہمان گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر تھے جنہوں نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک بننے سے قبل جب وہ آئی ایم ایف میں کام کرتے تھے وہاں ان کی سربراہ ایک خاتون کرسٹینا لیگارڈ تھیں ۔ڈاکٹر رضا باقر کا مزید کہنا تھا کہ ایک اسٹڈی کے مطابق جنوبی ایشیاء میں 65 فیصد خواتین کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں ‘کسی بھی ملک میں پائیدار ترقی کیلئے مرد و خواتین کے لیے یکساں مواقع کا ہونا ضروری ہے ۔گورنر سندھ نے لیڈیز فنڈ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ایوا کائوس جی اور وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو دیا جب کہ لیڈیز فنڈ آئیڈل ایوارڈ صحرائے تھر کی ثمینہ کماری پربھو کو دیا‘ دیگر ایوارڈ کی کامیاب خواتین میں پیپلز چوائس ونرز، مومینٹم اور وومین آف دی ایئر ایوارڈز بھی دئیے۔گورنر سندھ نے لیڈیز فنڈز ایوارڈز 2019 حاصل کرنے والی خواتین کو مبارک باد بھی پیش کی۔اس موقع پر لیڈیز فنڈ ٹریل بلیزرایوارڈ مائرہ قریشی ‘لیڈیز فنڈ مومینٹم ایوارڈ انیس راشد خان ‘لیڈیز فنڈویمن آف دی ایئر ایوارڈ فریحہ الطاف کودیاگیا۔لیڈیز فنڈپائنیئر ایوارڈ بھیک مانگنا چھوڑ کر کاروبار کرنے والی 14 بچوں کی ماں حور نامی خاتون کو دیا گیا۔حور شکار گاؤں میں بھکارنوں کی سربراہ تھیں تاہم حور نے ساتھی بھکارنوں کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ بھیک مانگنا چھوڑدیں اور ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے تحت ہنر سیکھ کر باعزت روزگار کمائیں۔عظمیٰ نورانی لیڈیز فنڈ اینجل ایوارڈ کی فاتح قرارپائیں جب کہ لیڈیز فنڈانٹرپرینیور ایوارڈبشریٰ عمران کے حصے میں آیا۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے پر عدیلہ سلیمان، امراعلی، مہر افروز، مہرین نورانی، یاسمین جیوا،  زرنک سدھوا، نرگس علوی ودیگر کی بھی ستائش کی گئی ۔چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پھیلانے پر ڈاکٹر عابدہ کے ستار کی بھی تعریف کی گئی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں خواتین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے اپنی بھرپور صلاحیتوں اور زندگی کے ہر شعبے میں وسیع تجربہ سے ملک میں اہم مقام حاصل کیا ہے، موجودہ حکومت خواتین کی بھرپور حوصلہ افزائی کے لئے ہر ممکن تعاون و مدد فراہم کرتی رہے گی، لیڈیز فنڈ کے پلیٹ فارم سے خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے بہترین کام ہو رہا ہے، خواتین کو لیڈیز فنڈز کے ذریعے معاونت فراہم کی جارہی ہے جوکہ قابل ستائش امر ہے۔آج کے دور میں عورت گھر سنبھالنے کے ساتھ ساتھ خاندان کو معاشی استحکام فراہم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں