یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ میں 12 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی جس میں ارکان نے مسئلہ کشمیر پر بحث کی اور مقبوضہ وادی میں بھارتی جارحیت، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ذرائع مواصلات کی بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔یورپی یونین کی خارجہ امور کی سر براہ فیڈریکا موغیرینی کا بیان وزیر توپرائینن نے پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ بھارت کو بتا دیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرے، سیاسی کارکن رہا کیے جائیں، بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر بات چیت سے حل کریں۔چیئرپرسن انسانی حقوق کمیٹی ماریا ایرینا نے کہا ک مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، وہاں 10 لاکھ فوج موجود ہے۔بحث کے دوران کئی ارکان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال قیامت خیز قرار دی جبکہ لبرل پارٹی کے ارکان نے بھی بھارتی اقدامات غیرقانونی قرار دیے۔رکن پارلیمنٹ محمد شفق نے یورپ پر زور دیاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے کھڑا ہو، پابندیاں اٹھائی جائیں جس پر یورپ کو شدید تحفظات ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں برسلز میں مسئلہ کشمیر پر یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا تھا۔یاد رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 45 روز سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ مقبوضہ وادی میں بچوں کے دودھ، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے جبکہ ٹیلیفون، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سروس مکمل بند ہیں۔ غاصب بھارتی افواج نے اب تک 40 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کرلیا ہے جنہیں جیلوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث بھارت کی مختلف جیلوں میں قید رکھا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں