ہانگ کانگ کا ملزمان کی حوالگی کے متنازع بل سے مکمل دستبرداری کا اعلان

ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لیم نے ملزمان کی چین حوالگی سے متعلق متنازع بل سے مکمل دستبرداری کا اعلان کردیا۔ہانگ کانگ نے ملزمان کی چین حوالگی سے متعلق متنازع بل کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا جس کے تحت جرائم میں ملوث افراد کو چین کے حوالے کیا جانا تھا تاہم ہانگ کانگ میں شدید اور پرتشدد احتجاج کے باعث انتظامیہ نے اس بل کو جون میں معطل کیا۔کیری لیم نے کہا تھا یہ بل مر چکا ہے مگر انہوں نے بل کی مکمل دستبرداری کچھ عرصے کے لیے روک دی تھی۔ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہرین بل کی معطلی کے بعد بھی سراپا احتجاج تھے اور ان کے پانچ مطالبات میں سے ایک بنیادی مطالبہ بل سے مکمل دستبرداری تھی جب کہ مظاہرین مکمل جمہوری حقوق کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بدھ کے روز ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کیری لیم نے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ ماننے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن سے متعلق چلنے والی تحقیقات میں مزید دو سینئر افسران شامل ہوں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ بھی سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر کیری لیم ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں کا ذمہ دار خود کو ٹھہرا رہی ہیں۔انگ کانگ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے متنازع بل کو مظاہرین نے ملک کی قانونی آزادی کو کم کرنے کے مترادف قرار دیا تھا جب کہ بل کے بعد مظاہرین مسلسل 14 ہفتے سے احتجاج کررہے ہیں جس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین احتجاج کے دوران ہونے والی گرفتاریوں پر ایمنسٹی سمیت بڑی سیاسی اصلاحات بھی چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں