کیا چیئرمین نیب بادشاہ سلامت ہیں؟

لاہور میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے جو معذرت خواہانہ انداز اپنایا،اُسے دیکھ کر تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ نیب کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ کہاں وہ ماضی کا نیب جس کے بارے میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو پریس کانفرنس میں یہ دھمکی دینا پڑتی تھی کہ نیب نے اگر تاجروں اور صنعتکاروں کو تنگ کرنا ختم نہ کیا تو اُس کے اختیارات کم کرنے پڑیں گے اور کہاں آج کا نیب،جس کے چیئرمین خود یہ اعلان کر رہے ہیں کہ نیب کی اب مجال نہیں کہ تاجروں کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھے۔کہا یہ جا رہا ہے کہ چیئرمین نیب تاجروں کی آرمی چیف اور بعدازاں وزیراعظم سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔اس سے تو بہتر تھا کہ وہ جنرل امجد کی طرح استعفا دے کرگھر چلے جاتے،کم از کم ایک آئینی ادارے کی اس طرح بے توقیری تو نہ کرتے۔نیب اور حکمران طبقوں کا اختلافی کھڑاک تو ہر دور میں رہا ہے۔نیب بنایا ہی اِس لئے گیا ہے کہ کسی بالادست کا اثر لئے بغیر احتساب کے عمل کو جاری رکھے،اُسے آئینی تحفظ دیا ہی اس وجہ سے گیا ہے کہ کوئی بھی اُس کی خود مختاری میں مداخلت نہ کر سکے،پھر وزیراعظم اور آرمی چیف سے تاجروں کی ملاقات چیئرمین نیب کے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے؟آئینی طور پر تو وہ دونوں نیب کے احتسابی عمل میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتے۔اس ملاقات کے بعد چیئرمین نیب کے رویے میں تبدیلی تو اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے،کہ نیب آزادانہ کام نہیں کرتا، بلکہ وزیراعظم یا چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایات پر چلتا ہے،جو ظاہر ہے غیر آئینی بھی ہے اور خلافِ حقیقت بھی۔اب بجا طور پر یہ سوال اُٹھ رہے ہیں کہ چیئرمین نیب کیسے کسی طبقے کو احتساب کے عمل سے نکالنے کی بات کر رہے ہیں۔کیا وہ بادشاہ سلامت بن چکے ہیں؟حیرت ہے کہ عدلیہ کے ساتھ منسلک رہنے کے باوجود چیئرمین نیب ایسی باتیں کر رہے ہیں،جن کی آئین اور قانون اجازت نہیں دیتا۔ نیب قانون میں تو کہیں نہیں لکھا کہ معاشرے کے فلاں فلاں طبقے کو اس سے باہر رکھا جائے،نہ ہی کسی خاص طبقے کے لئے کوئی علیحدہ کمیٹی بنائی یا طریقہئ کار وضع کیا جا سکتا ہے۔ پھر چیئرمین نیب نے یہ فیصلہ کیسے کر لیا کہ نیب تاجروں کی طرف آنکھ بھر کر نہیں دیکھے گا۔ اُنہیں نیب اہلکار فون کریں گے اور نہ ہی انہیں طلب کیا جائے گا،اُن کے معاملات ایف بی آر والے دیکھیں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے تاجروں کی کوئی تعریف بھی نہیں کی،وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تاجروں کے نام پر جن شخصیات کی ملاقات ہوئی وہ تو کسی بھی طرح تاجروں کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے،وہ تو ارب پتی شخصیات تھیں،جن میں سے کئی ایک کے خلاف تو نیب تحقیقات بھی کر رہا ہے۔اگر نیب مقتدر طبقوں میں سے کسی ایک کاروباری طبقے کی ملاقات پر چاروں شانے چت ہو سکتا ہے تو باقی طبقے کہاں پیچھے رہیں گے۔وہ بھی اُن سے ملاقات کر کے نیب کی شکایت کریں گے تو کیا چیئرمین نیب ہر بار اسی طرح کی معذرت خواہانہ پریس کانفرنسیں کر کے یقین دلاتے رہیں گے کہ آئندہ نیب اُن کی طرف دیکھے گی بھی نہیں۔سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے چیئرمین نیب کے حالیہ فیصلوں پر بڑے کارآمد قانونی نکات اٹھائے ہیں۔سب سے پہلا سوال تو یہی کیا ہے کہ چیئرمین نیب قانون میں ترمیم کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ کس بنیاد پر کر سکتے ہیں۔نیب ایک آئینی ادارہ ہے اور آئینی ترمیم کے ذریعے ہی اس کے قوانین میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے،پھر چیئرمین کس اتھارٹی کے تحت ایسے خانے بنا رہے ہیں کہ کون نیب کی زد میں آئے گا اور کون نہیں آئے گا؟نیب قوانین میں تو سب کا احتساب کی شق رکھی گئی ہے، چیئرمین نیب قانون کے تابع ہیں نا کہ اُس پر حاوی،پھر انہوں نے یہ بریت کی چٹیں بانٹنے کا سلسلہ کیوں شروع کیا ہے؟یہ کوئی آج کی بات نہیں کہ بیورو کریٹس، بڑے صنعتکار،تاجر اور بااثر طبقوں کے افراد احتساب پر چیخ رہے ہیں۔اس وقت تو ملک میں جمہوریت ہے،جب پرویزمشرف کی آمریت تھی اُس وقت بھی انہیں ڈرایا جاتا تھا کہ کڑے احتساب کی وجہ سے بیورو کریٹس کام چھوڑ دیں گے اور سرمایہ کار باہر چلے جائیں گے۔سابق چیئرمین نیب جنرل(ر) شاہد اس بارے میں تفصیل سے اپنی کتاب میں لکھ چکے ہیں۔سابق چیئرمین نیب جنرل(ر) امجد کو بھی اسی دباؤ کی وجہ سے استعفا دینا پڑا تھا۔گویا بہتر راستہ تو یہی ہے کہ جب چیئرمین نیب یہ محسوس کرے کہ اُسے کام نہیں کرنے دیا جا رہا،یا اُس کے اختیارات میں مداخلت کی جا رہی ہے تو وہ مصلحتوں کا شکار ہو کر غیر آئینی فیصلے کرنے کی بجائے مستعفی ہو کر گھر چلا جائے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال ہر دوسرے دن میڈیا پر آ کر وضاحتیں کر رہے ہیں، آخرانہیں اس کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے؟انہوں نے کیا اپنی مقبولیت برقرار رکھنی ہے یا کسی سیاسی عہدے پر متمکن ہیں؟انہیں صرف اپنا کام کرنا چاہئے۔وہ جتنا میڈیا پر آتے ہیں،اتنا ہی اُن کے عہدے کا تاثر زائل ہوتا جا رہا ہے۔اب اُن کا یہ کہنا کیا اُن کے منصب سے لگا کھاتا ہے کہ تاجروں نے آرمی چیف اور وزیراعظم سے ملاقاتوں میں نیب کے بارے میں شکایات کیں۔کیا وزیراعظم ہاؤس اور آئی ایس پی آر کی طرف سے ایسے کوئی پریس ریلیز جاری ہوئے،جن میں نیب کے حوالے سے شکایات کی بات کی گئی ہو یا یہ کہا گیا ہو کہ تاجروں کی شکایات پر نیب کے چیئرمین سے بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جب سرکاری طور پرایسا کچھ نہیں کہا گیا تو پھر چیئرمین نیب نے سرکاری طور پر اُس کا جواب دینے کی زحمت کیوں گوارا کی۔کیا اس سے اُن کی کمزوری ظاہر نہیں ہوتی؟کیا یہ بہتر نہ ہوتا تاجروں کے سامنے ملتجیانہ لہجہ اختیار کرنے کی بجائے نیب ترجمان کی طرف سے یہ بیان جاری ہوتا کہ نیب قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتساب کا عمل جاری رکھے گا۔جب تک نیب آرڈیننس موجودہ حالت میں موجود ہے،چیئرمین نیب اُس کے تابع رہ کر فیصلے کر سکتے ہیں،وگرنہ اُن پر جائز طور پریہ الزام لگے گا کہ انہوں نے نیب کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے اور بادشاہ سلامت بن کر فیصلے کر رہے ہیں۔نیب آرڈیننس میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ چیئرمین نیب کسی طبقے کو احتساب کے عمل سے مبرا قرار دے سکیں۔ایسا کرنے کی صورت میں نیب نہ صرف متنازعہ ہو جائے گا،بلکہ احتساب کے عمل پر بھی اَن گنت سوالیہ نشان لگ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں