ڈاکٹر پر تشدد، احتجاجی ڈاکٹروں کی او پی ڈی میں داخلے

پشاور: ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ڈیوٹی کیلیے نہیں دھمیکاں دینے آتے ہیں اور دیگر ڈاکٹرز کو کام سے روکنے پر ڈاکٹر غفار اور سیکیورٹی گارڈ میں ہاتھا پائی ہوئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور میں ڈاکٹروں کی ہڑتال 23ویں روز میں داخل ہوگئی، خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں میں او پی ڈیز آج بھی بند ہیں، حکومت اور ڈاکٹروں کے مابین ڈیڈ لاک برقرار ہے جب کہ اسپتالوں میں آنے والے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پر مجبور ہیں۔گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اسلام آباد کو25 اکتوبر کو لانگ مارچ کی تیاری شروع کردی اور اس سلسلے میں تمام اضلاع سے زیلی تنظیموں کو تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے جلد مکمل شیڈول کا اعلان کیا جائے گا،  صوبہ پنجاب اور وفاق کے ڈاکٹرز کی گرینڈ ہیلتھ الائنس کی لانگ مارچ میں شرکت متوقع ہے۔دوسری جانب ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال محمد عاصم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ڈیوٹی کیلیے نہیں دھمیکاں دینے آتے ہیں اور دیگر ڈاکٹرز کو ڈیوٹی سے روکنے اور دھمکیاں دینے پر سیکورٹی گارڈ نے ڈاکٹر غفار کو روکا، اس دوران او پی ڈی سے باہر نکالنے پر ڈاکڑ غفار اور سیکورٹی گارڈ میں ہاتھا پائی ہوئی۔ادھر ڈاکٹر پر تشدد کے بعد احتجاجی ڈاکٹروں نے او پی ڈی میں داخلے کی کوشش کی، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری او پی ڈی کے مین گیٹ پر تعینات ہے جب کہ صوبے کے سب سے بڑے اسپتال میں حالات کشیدہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں