چین کا70واں قومی دن‘بیجنگ میں بھرپورفوجی طاقت کا مظاہرہ

 چین کا قومی دن آج منایا جارہا ہے اس سلسلہ میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کے 70 سال مکمل ہونے پر سالانہ تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ بھی کی گئی. بیجنگ کے تیاننمن اسکوائر پر منگل کو ملٹری پریڈ میں 15 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا جب کہ فوجی طاقت کے مظاہرے کے لیے جدید ہتھیاروں سمیت ہائپر سونک ڈرون اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی بھی نمائش کی گئی.چین کے صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی کے دیگر راہنماﺅں نے فوجی پریڈ دیکھی‘اس موقع پر چین کی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے فضا میں کرتب دکھائے اور 70 کے ہندسے سے فارمیشن بناتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو سلامی دی. صدر شی جن پنگ اسی مقام پر براجمان ہوئے جہاں چین کے بانی چیئرمین ماﺅ نے یکم اکتوبر 1949 کو کھڑے ہو کر عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا.چین کے صدر شی جن پنگ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ کوئی طاقت اس عظیم قوم کے وقار کو متزلزل نہیں کرسکتی اور کوئی طاقت چین کے لوگوں کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی. پیپلز لبریشن آرمی کی جانب سے تقریب میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈی ایف 41 نیوکلیئر بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش بھی کی گئی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ امریکہ میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے‘فوجی پریڈ میں ڈی ایف 17 ہائپر سونک میزائلوں کی بھی نمائش کی گئی.تیز رفتار اور بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرون کو بھی پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا‘رپورٹ کے مطابق منتظمین کی طرف سے چین کے قومی دن کے موقع پر شام کو ہونے والی تقریب کے موقع پر شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا جائے گا اور 70 ہزار کبوتر اور 70 ہزار غبارے فضا میں چھوڑے جائیں گے. چین کا قومی دن ہرسال یکم اکتوبرکو منایا جاتا ہے لیکن اس بار جوش و خروش کچھ زیادہ ہے جس کی وجہ چین کا عالمی سیاست میں بڑھتا کردار اور اثرورسوخ ہے 10 برس قبل چین ایک عالمی طاقت بننے کی راہ پر تھا اور آج وہ امریکہ کے ٹکرکی طاقت کے طور پر دنیا میں اپنا لوہا منوا رہا ہے.60 سال پہلے خانہ جنگی کے اختتام پر عوامی جمہوریہ چین نے آزادی حاصل کی تھی اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گذرتا رہا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہا آج وہ معاشی طورپر دنیا کی بڑی طاقتوں کی صف میں شامل ہوچکا ہے. قومیں اپنے لیڈروں کی قیادت میں منزلوں کی سمت سفر کرتی ہیں چینی قوم کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں ماﺅزے تنگ جیسا لیڈر ملا جس نے آزادی سے لے کر 1976تک اپنی قوم کی مخلصانہ قیادت کی اور قوم کو اس منزل تک پہنچایا جہاں سے اس کو اپنی منزل صاف نظر آنے لگی تھی اس مرحلے پر ایک اور عظیم قائد ڈے نگ ژے آ پنگ نے قوم کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا انہوں نے معاشی اصلاحات کاآغاز کیا انہوں نے جو اوپن ڈور پالیسی اختیار کی تھی اس نے چین کوعظیم اقتصادی قوت بننے کی منزل سے ہم کنار کر دیا‘ جس سفر کا آغاز چیئرمین ماﺅزے تنگ نے کیا تھا اور قوم کو لے کر اس راستے پر ڈینگ ژے آ پنگ آگے بڑھے تھے چینی قوم کی تیسری نسل بھی اسی سفر پر رواں دواں ہے اور تیسری نسل کی قیادت چین کا ایک اور انقلابی لیڈر ہوجن تاﺅ کر رہے ہیں.موجودہ چینی قیادت قومی مفاہمت‘ امن و آشتی اور معاشی ترقی کے رہنما اصولوں کے تحت کام کر رہی ہے چےن دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جس نے بدترین بین الاقوامی کساد بازاری کے باوجود اپنی معیشت کو سنبھالے رکھا جو زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر اور صنعتی ترقی کی جامع پالیسی کی بدولت ہی ممکن ہو سکا ہے. پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے عوامی جمہوری چین کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا تب سے آج تک چین اور پاکستان کے درمیان میں انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں پاک چین دوستی کو قوموں کی برداری میں ایک مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور بجاطور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالہ سے بلند‘ سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے.پاکستان اور چین جغرافیائی لحاظ سے پڑوسی ہونے کے ناطے ہی ایک دوسرے کے قریب نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے دونوں ملکوں کے عوام کے عالمی امور‘ امن پسندی اور باہمی احترام کے حوالے سے خیالات بھی یکساں ہیں.پاکستان اور چین کے منصوبوں میں ایک اہم ترین منصوبہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) ہے‘ پاک چین کوریڈور کوئی سڑک ،ریلوے لائن یا گذر گاہ نہیں بلکہ سڑکوں و انفراسٹرکچر کا ایک پورا جال ہے اور اس نیٹ ورک کو پاک چین کوریڈور کا نام دیا گیا ہے.سی پیک منصوبے کی بنیاد 2013ءمیں رکھی گئی اور نومبر 2016ءمیں اس بڑے پروجیکٹ کے ایک حصے نے کام شروع کر دیا جبکہ کچھ اشیاءٹرک کے ذریعے چین سے گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے مغربی ایشیا اور افریقہ کی منڈی میں بھیجی گئیں اس کامیابی کے بعد چین نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری میں اضافے کا عندیہ دیا تھا جو اب 62بلین تک پہنچ گیا ہے. اس منصوبے کیلئے جو بڑی سڑکیں یا گذر گاہیں استعمال ہوں گی ان میں بڑی سڑک شاہراہ ریشم ہے ،پھر موٹرویز موجود ہیں ابھی مزید مسنگ لنکس بنیں گے یہ پوراایک منصوبہ ہے جس میں بندرگاہ ،انفرسٹرکچر، صنعتیں اور سب سے بڑا انرجی کا شعبہ شامل ہے۔اس منصوبہ کے تحت چین گوادر میں ایک جدید ترین بندرگاہ اور ایئرپورٹ بھی تعمیر کریگا جس کی بدولت اس علاقے کو ایک اہم بین الاقوامی تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل ہو جائیگی.ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف پاکستانی عوام کیلئے ترقی و خوشحالی کے نئے دوازے کھل جائینگے بلکہ چین کی معیشت کیلئے بھی وسعت پذیر ی کے مزید امکانات پیدا ہوں گے۔ چین کیلئے تویہ اقتصادی راہداری یورپ‘ایشیاءاور مشرق وسطیٰ تک ایک نہایت آسان اور باکفایت گزرگاہ کا کام دے گی ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں صنعتی ، معاشی اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی.پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سی پیک کی کامیابی کیلئے پرامید ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سی پیک پاک چین دوستی میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا اور دونوں ممالک کو اس منصوبے کی تکمیل سے بے انتہا معاشی فوائد ہوں گے. پاکستان اور چین دونوں ممالک ایک دوسرے کیساتھ دفاعی‘توانائی اور اقتصادی تعاون کی مضبوظ ڈور سے بندھ چکے ہیں‘ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کیا جائے.8اگست 2008کو چین کے شہر بیجنگ میں اولمپک کھیلوں کا آغاز ہوا دنیا کے 204ملکوں سے ہزاروں کھلاڑی اور آفیشلز چین پہنچ گئے اور انہوں نے اولمپک کھیلوں کے دوران میں اپنی پے شہ وارانہ صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا. دنیا بھر کے کروڑوں اربوں افراد نے بیجنگ میں کھیلوں کے اس عظیم الشان میلے کو دیکھا برڈز نے سٹ سٹیڈیم میں اولمپکس کی اختتامی تقریب دے کھنے سے تعلق رکھتی تھی اس شاندار تقرےب کی وجہ سے بیجنگ اولمپکس کو تاریخ کا سب سے عظیم اجتماع قرار دیا جاتا ہے.16 روزہ اولمپک مقابلوں کے لیے چین نے جو انتظامات کیے تھے اس پر دنیا حیران رہ گئی اور اقوام عالم میں چین کی تعریف و توصیف کے ڈونگرے بجائے گئے. 1949میں جب عوامی جمہوریہ چین نے آزادی حاصل کی تو طویل خانہ جنگی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت دگرگوں ہو گئی تھی اور لگتا ہی نہیں تھا کہ اقتصادی طور پر یہ بے حال ملک اپنی بقاءکا تحفظ بھی کر پائے گا.1950سے لے کر 1960تک چین میں فی کس آمدنی صرف 50ڈالر تھی‘ اس مرحلے پر چین نے بڑی بڑی صنعتیں قائم کیں اور بڑے تعمیراتی پراجےکٹ شروع کیے اس وقت تک زرعی پیداوار بہت کم تھی صنعتی پیداوار بھی ملکی ضرورت کے لیے کافی نہیں تھی. چےنی حکومت نے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے راشن کوپن کا نظام شروع کیا تاکہ شہریوں کو ضرورت کی اشیاءمناسب نرخوں اور وافر مقدار میں فراہم کی جاسکیں‘ 1970کے عشرے میں چین نے زرعی اور صنعتی اصلاحات متعارف کرائے سماجی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی گئی.مقامی مارکیٹ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئی ضروریات زندگی کی ترسیل پر توجہ مرکوز رکھی گئی لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی اب وہ اپنی پسند کی ہر چیز خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے جب عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے لگا تو راشن کوپن کا نظام خود بخود متروک ہو گیا. آج ہم اعدادوشمار کے میزان پر رکھ کر دے کھتے ہیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ گذشتہ چھ عشروں کے دوران میں چین کی مجموعی قومی پیداوار میں چار سو گنا اضافہ ہوا ہے اور فی کس آمدنی50 ڈالر سے بڑھ کر 3 ہزار ڈالر ہو گئی ہے.1954میں چین کا پہلا دستور بنا‘1982میں چینی دستور میں نئے اصول و ضوابط شامل کیے گئے 1999میں نیشنل پےپلز کانگریس نے چینی آئین میں ترمیم کرکے قانون کی حاکمیت کو آئین کا حصہ بنالیا2004میں انسانی حقوق کی ضمانت کو بھی آئین کا حصہ بنادیا گیا. ایک ماہر چینی قانون دان مسٹر لی بووان نے آئین میں ان دو ترامیم کو انتہائی اہم قرار دےتے ہوئے کہا ہے کہ ان ترامیم کی بدولت چین کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو ضمانت مل گئی ہے.برسوں سے اصلاحات کے عمل سے گذرنے کے بعد عوامی جمہوریہ چین نے اپنے لیے ایک جامع دستور اور ضابطہ حیات وضع کر لیا ہے 231ایسے قوانین آئین کا حصہ بنائے گئے ہیں جن کا عام شہریوں سے براہ راست تعلق ہے ان قوانین کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو سیاست‘ معیشت‘ ثقافت اور سماجی سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہیں جبکہ معذور افراد‘ خواتین‘ بچوں ‘بزرگوں اور بے سہارا افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی قوانین وضع کیے گئے ہیں.چین اقوام متحدہ کے بانی ممالک میں شامل ہے اس وجہ سے چین کو سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق بھی حاصل ہے دوعشروں تک مغرب کی چین دشمنی کی وجہ سے اسے اقوام متحدہ میں اپنے جائز مقام سے محروم رہنا پڑا. 25 اکتوبر1971چین کی سفارتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ عالمی ادارے میں چین کی مراعات بحال کر دیں‘ چین کی اقوام متحدہ میں یہ غیر معمولی کامیابی دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی کیونکہ چین ہر فورم پر ترقی پزیر ممالک کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے.مراعات کی بحالی کے بعد چین چھوٹے اور کمزور اقوام کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کر رہا ہے‘ اقوام متحدہ میں سیٹ کی بحالی کے بعد چین نے عالمی برادری سے تعلقات کو فروغ دے نے پر توجہ دی. 1970کے عشرے کے اختتام تک چین نے 120ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کردئے ے تھے جن میں امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام بھی ایک اہم پش رفت قرار دیا جاسکتا ہے.شنگھائی تعاون تنظیم‘ کوریا کی جوہری قوت کے حوالے سے 6 ملکی مذاکرات‘ چین افریقن تعاون تنظیم ‘بیجنگ سربراہ اجلاس ‘ ایشیاءیورپ میٹنگ سے لے کر لندن میں جی ٹونٹی سربراہ اجلاس تک چین نے ہر فورم میں اپنے فعال کردارکی وجہ سے اپنی حیثیت منوالی ہے. ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت ہونے کے ناطے بھی چین نے عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور قوموں کی برادری میں چین کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے. چےن دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے انسان بردار خلائی جہاز خلاءمیں بھیجے70 سال قبل جب چین آزاد ہوا تھا تو خلاءکو تسخیر کرنے سمیت وہ کامیابیاں خواب معلوم ہو رہی تھیں جنہیں آج چین نے اپنی محنت کی بدولت تعبیر کاجامہ پہنایا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں