چوہدری شوگر ملز کیس :مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع

لاہور :احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع کردی ۔
لاہور کی احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت کی،نیب نے مریم نواز اور یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 15روز کی توسیع کرنے کی استدعا کی۔نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چوہدری شوگر ملز میں سات ڈائریکٹرز اور بیس افراد پارٹنر شپ میں تھے۔تیشی افسر نے بتایا کہ میاں شریف، کلثوم نواز، حسین نواز اور مریم نواز سمیت دیگر فیملی کے لوگ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تھے۔عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ چوہدری شوگر ملز کا سربراہ کون تھا،جس پرتفتیشی نے بتایا کہ مختلف اوقات میں شریف فیملی کے مختلف افراد چیف ایگزیکٹو مقرر ہوتے رہے،1992میں حسین نواز چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ مریم نواز کب چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئیں،جس پرتفتیشی افسر نے بتایا کہ مریم نواز 2004میں چوہدری شوگر مل کی چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئیں۔
مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ دادا کی زندگی میں تمام شئیرز تقسیم کر دیئے گئے، پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور میں چوہدری شوگر ملز کے متعلق تفتیش ہوچکی ہے، پاناماجے آئی ٹی نے بھی چوہدری شوگر ملز کی تحقیقات کیں، العزیزیہ کیس میں چوہدری شوگر ملز کو نواز شریف کی بے نامی جائیداد ظاہر کیا گیا۔مریم نواز نے عدالت کو بتایا کہ 42دن ان سے کسی ایک پیسے کی کرپشن کا سوال نہیں پوچھا گیا۔ چوہدری شوگر ملز کیس :مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع
لاہور :احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع کردی ۔لاہور کی احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت کی،نیب نے مریم نواز اور یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 15روز کی توسیع کرنے کی استدعا کی۔نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چوہدری شوگر ملز میں سات ڈائریکٹرز اور بیس افراد پارٹنر شپ میں تھے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ میاں شریف، کلثوم نواز، حسین نواز اور مریم نواز سمیت دیگر فیملی کے لوگ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تھے۔عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ چوہدری شوگر ملز کا سربراہ کون تھا،جس پرتفتیشی نے بتایا کہ مختلف اوقات میں شریف فیملی کے مختلف افراد چیف ایگزیکٹو مقرر ہوتے رہے،1992میں حسین نواز چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ مریم نواز کب چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئیں،جس پرتفتیشی افسر نے بتایا کہ مریم نواز 2004میں چوہدری شوگر مل کی چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئیں۔مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ دادا کی زندگی میں تمام شئیرز تقسیم کر دیئے گئے، پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور میں چوہدری شوگر ملز کے متعلق تفتیش ہوچکی ہے، پاناماجے آئی ٹی نے بھی چوہدری شوگر ملز کی تحقیقات کیں، العزیزیہ کیس میں چوہدری شوگر ملز کو نواز شریف کی بے نامی جائیداد ظاہر کیا گیا۔مریم نواز نے عدالت کو بتایا کہ 42دن ان سے کسی ایک پیسے کی کرپشن کا سوال نہیں پوچھا گیا۔مریم نواز نے کہا کہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دادا نے آپ کو شئیرز کیوں ٹرانسفر کئے، میں اس کا کیا جواب دوں کہ ایک دادا اپنے خاندان کو ٹرانسفر کر رہا ہے غیروں کو نہیں،مجھ سے دستاویزات مانگتے ہیں، میں نے کہا کہ اگر آپ کو دستاویزات چاہیئے ہوتیں تو پہلے مرحلے پر ہی گرفتار کرلیا جاتا، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انہیں دستاویزات نہیں چاہئیں۔مریم نواز نے کہا کہ مجھے سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا، میں جلسے کر رہی تھی اس لیے قید کیا جانا ضروری تھا۔دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع کرتے ہوئے 25ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔مریم نواز نے کہا کہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دادا نے آپ کو شئیرز کیوں ٹرانسفر کئے، میں اس کا کیا جواب دوں کہ ایک دادا اپنے خاندان کو ٹرانسفر کر رہا ہے غیروں کو نہیں،مجھ سے دستاویزات مانگتے ہیں، میں نے کہا کہ اگر آپ کو دستاویزات چاہیئے ہوتیں تو پہلے مرحلے پر ہی گرفتار کرلیا جاتا، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انہیں دستاویزات نہیں چاہئیں۔مریم نواز نے کہا کہ مجھے سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا، میں جلسے کر رہی تھی اس لیے قید کیا جانا ضروری تھا۔دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع کرتے ہوئے 25ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں