پنجاب کے آٹھ اضلاع میں قائم چائلڈ پروٹیکشن بیورو عقوبت خانے کا منظر پیش کرنے لگے ،دل دہلا دینے والی ویڈیوز سامنے آ گئیں

لاہور(این این آئی)پنجاب کے آٹھ اضلاع میں قائم چائلڈ پروٹیکشن بیورو عقوبت خانے کا منظر پیش کرنے لگے ،رہائش پذیر بچوں پر بد ترین تشدد کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے وجہ سے کئی بچے بھاگنے پر مجبور ہو گئے ،بیورز میں رہائش پذیر بچوںسے مشقت بھی لی جاتی ہے جبکہ بچوں کی تعداد کے حوالے سے بھی تضاد سامنے آیا ہے ،چیئر پرسن سارہ احمد نے اراکین اسمبلی پر بھیپیشگی اطلاع کے بغیر دورے پرپابندی کا سرکلر جاری کردیا ،رہائش پذیر بچوں کی حالت زار کے حوالے سے اعلیٰ حکومتی شخصیت کو حقائق سے آگاہ کر دیاگیا ۔تفصیلات کے مطابق لاہور ،سیالکوٹ، گوجرانوالہ،راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان،بہاولپور اور رحیم خارن میں کئی کنال رقبے اور کروڑوں روپے کی لاگت سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں لیکن ان میں بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور جو بچے رہائش پذیر ہیں وہ بھی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ رحیم یار خان اور بہاولپور میں واقع چائلڈ پروٹیکشن بیورز میں رہائش رکھنے والے بچوں کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس میں بچوں کاکہنا ہے کہ انہیں پیٹ بھر کر کھانا نہیں دیا جاتا بلکہ کھانا مانگنے اور غلطی کرنے پر بیلٹوں سے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے کئی بچے وہاں سے فرار بھی ہو چکے ہیں۔بہاولپور بیورو میں رہائش پذیر بچوں کے خارش سمیت دیگر امراض میں بھی مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ بچوں نے بتایا کہ ان سے کچن اور صفائی ستھرائی کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بیوروز میں رہائش پذیر بچوں کے اخراجات کی مد میں لاکھوں رو پے کے اخراجات ظاہر کئے جاتے ہیں لیکن ان بیوروز میں رہائش پذیر بچوں کی تعداد کے میں بھی تضاد سامنے آیا ہے ۔ رحیم یار خان بیورومیں رہائش پذیر دو بچوں کو موٹرسائیکل ورکشاپ اور ٹیلرنگ کے کام پر بھی بھجوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ رحیم یار خان اور بہاولپور میں بچوں کی حالت زار کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری داخلہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئر پرسن سارہ احمد کی ساری توجہ صرف لاہور بیورو میں حکومتی شخصیات کو مدعو کر کے پودے لگانے تک محدودہے اور ان کی جانب سے پنجاب کے دور دراز اضلاع میں قائم بیوروز کی حالت زار سے آگاہی کیلئے ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔ علاوہ ازیں بعض حلقوں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ تمام بیوروز میں قیام پذیر بچوں کی اتنی کم ہے کہ انہیں ایک بیورومیں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے جبکہ باقی عمارتوں کو عمارتوںکو سکولو ں اور کالجو ں کیلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ساہیوال اور سرگودھا میں نئے بیوروز کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں