پشتو جنّات کی زبان ہے، نئی تحقیق میں دعویٰ

اللہ سبحانہُ وتعالیٰ اس جہاں کا خالق و مالک ہے اور اسی نے اس جہاں کی تمام مخلوقات کی تخلیق فرمائی ہے، اللہ تعالی نے انسانی کی تخلی‍ق کے بارے میں قرآنِ پاک میں سب واضح طور پر بیان کیا ہے کہ کس طرح آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے کی گئی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنوں کی تخلیق کے بارے میں بھی واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ وہ بھی انسانوں کی طرح اللہ کی مخلوق ہیں جن کی تخلیق آگ سے کی گئی ہے۔یونی ورسٹی آف پشاور کے پروفیسرجاوید خلیل کے مطابق پشتو زبان کے آغاز کے بارے میں گزشتہ 100 سالوں سے بحث چل رہی ہے مگر اب تک اس کے منبع کے بارے میں تفصیلات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔کچھ مؤرخ پشتون قوم کا تعلق قدیم گروہ آریہ سے بتاتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ پشتونوں کا تعلق یہودیوں کے قدیم قبائل سے جوڑتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر جاوید خلیل نے یہودی قبائل والے نظرئیے کو مسترد کرتے ہوۓ کہا کہ پختون لوگوں کی بنیاد سراسر اسلامی نظریات پر قائم ہے، مگر اب پشتو زبان کے بارے میں کچھ ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے سب لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔تحقیق کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ان کے والد کی جانب سے کئی معجزات وراثت میں ملے تھے، جن میں ہوا پر حکمرانی، پلک چھپکتے ہی فاصلے طے کرنا اور جانوروں، پرندوں، حشرات اور جنوں کے زبان سمجھنے کا علم بھی تھا۔
اللہ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو افغان نامی بیٹے سے نوازا اور افغان نے اپنے والد سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کو جنات کی زبان کا علم سکھا دیا جائے جس پر افغان کے والد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جنوں کی زبان سکھا دی۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:
اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔اور سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور پرندے جمع کیے جاتے پھر ان کی جماعتیں بنائی جاتیں (سورۃ النمل آیت 16،17)
اب نئی تحقیق میں دعوییٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ پشتو زبان ہی درحقیقت جنوں کی زبان تھی جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سکھائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں