پاک آرمی سری لنکن ٹیم کی سیکیورٹی کی براہ راست نگرانی کرے گی

سری لنکن کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں پاکستان آرمی براہ راست سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کرے گی۔
سری لنکا انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل (ر) کولا تھنگے نے کہا ہے کہ ٹیم پر پاکستان میں حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر کو بھی سری لنکا میں کسی ممکنہ حملے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔سری لنکا کرکٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ پاکستان آرمی تمام انتظامات کرے گی۔ وزارت دفاع نے ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی اجازت دے دی ہے، حکومت پاکستان نے سری لنکن حکومت کو خط لکھ کر ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرادی ہے جس سے سری لنکا کےدورہ پاکستان پر چھائے خدشات کے بادل چھٹ گئے ہیں۔سری لنکا کیخلاف سیریز کیلئے قومی ٹیم کا کیمپ شروعلاہور میں سیریز کیلئے قومی ٹیم کے 4 روزہ تربیتی کیمپ کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ کیمپ میں کپتان سرفراز احمد بھی شریک ہوگئے ہیں۔اکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے اور ٹی 20 سیریز 27 ستمبر سے 9 اکتوبر تک شیڈول ہے۔ جمعرات کوسری لنکا کرکٹ کے سیکرٹری موہن ڈی سلوا نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گرین سگنل مل گیا ہے، میں خود اور دیگر بورڈ عہدیدار بھی ٹیم کے ساتھ جائیں گے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سری لنکن ٹیم کو کراچی اور لاہور میں سربراہ مملکت کے برابر سیکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔سری لنکا کی ٹیم بدھ کو پاکستان آئے گی، پہلا ون ڈے 27 ستمبر کو کراچی میں کھیلا جائے گا، اس کے بعد مزید دو ایک روزہ میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوں گے۔تین ٹی ٹوئنٹی میچز لاہور میں شیڈول ہیں۔ موہن ڈی اسلوا نے کہا کہ کولمبو میں پاکستانی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان کی جانب سے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ٹیم کو غیر ملکی سربراہ مملکت کے مساوی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ہائی کمشنر کی جانب سے خط میں سری لنکا ٹیم کو پاکستان میں غیر ملکی سربراہوں کی مساوی سیکیورٹی دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سری لنکن ٹیم کا خاص خیال رکھا جائے گا۔گذشتہ ہفتے دورہ اس وقت شدید خدشات کا شکار ہوگیا تھا جب سری لنکن بورڈ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دفتر نے ہدایت جاری کی ہے کہ مختصر طرز کی کرکٹ کے 6 میچوں کے دورے میں قومی ٹیم کے خلاف ممکنہ دہشت گرد خطرے کے حوالے سے باوثوق معلومات ملنے کے بعد صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔تاہم اب سری لنکا کرکٹ نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمیان کا اظہار کیا ہے۔ 2009میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں 10 سال سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہوا ہے۔سری لنکا دس سال بعد پاکستان میں ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔ سری لنکا کے دس کھلاڑیوں نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔سیکریٹری موہن ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کیا تو سیکیورٹی انتظامات اطمینان بخش تھے۔ پی سی بی نے سیریز کو کسی اور ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں