پانچ سو کرپٹ لوگ، فہرست کہاں ہے؟

چینی بھی حیران ہوتے ہوں گے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو پانچ سو کرپٹ افراد کا علم ہے، مگر وہ انہیں پکڑنے اور سزا دینے پر قادر نہیں۔ خود ہم پاکستانی حیران ہیں کہ وزیر اعظم کن پانچ سو افراد کی بات کر رہے ہیں، کیا واقعی انہوں نے کوئی ایسی فہرست بنا رکھی ہے یا صرف اندازوں سے تعداد بیان کر دی ہے؟ حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ 13 مہینے ہو گئے اقتدار میں آئے حکومت نے پانچ سو تو کیا پانچ لوگوں کے ریفرنس بھی نیب کو نہیں بھیجے۔ وزیر اعظم کی باتوں سے تو یہ لگتا ہے کہ انہیں نیب پر اعتبار نہیں اور وہ کوئی ایسا اختیار چاہتے ہیں کہ سب کرپٹ لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ عجیب صورتِ حال ہے کہ چیئرمین نیب سعودی عرب جیسا اختیار مانگتے ہیں اور وزیر اعظم چین جیسی آزادی چاہتے ہیں کہ بد عنوانوں کو گردن سے پکڑیں اور الٹا لٹکا دیں، جبکہ عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ چیئرمین نیب مختلف طبقوں کو احتساب کے عمل سے نکال رہے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان نیب قوانین میں نرمی لانے کی وزارتِ قانون کو ہدایت کر چکے ہیں تو پھر احتساب کی یہ آئیڈیل بیل کیسے منڈھے چڑھ سکے گی جسے وزیر اعظم اور چیئرمین نیب گاہے بہ گاہے بیان کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں اوپر سے نیچے تک کرپشن کی حالت دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں دو چار دس یا دو چار سو کی بات نہیں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ خود اس حکومت کے ذمہ داروں کی کہانیاں بھی زیر گردش ہیں اور چراغ تلے اندھیرا کے مصداق وزیر اعظم اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کا بھی کچھ بگاڑ نہیں پا رہے آخر وجہ کیا ہے کہ بد عنوان مافیا کے خلاف اختیار والوں کی طرف سے بے بسی کا بیانیہ سامنے آ رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو سچ بولنے کی عادت ہے، مگر سچ بولنے کا بھی تو کوئی وقت مقام اور موقع ہوتا ہے۔ اب چین جا کر وہاں کے سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہنے کی بھلا کیا ضرورت تھی کہ پاکستان میں کرپشن کو ختم کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ اس سے پہلے وہ یہ بھی تسلیم کر چکے تھے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری اس لئے نہیں آتی کہ وہاں کرپشن بہت رہی ہے، اب کہنا تو یہ چاہئے تھا کہ آپ بے خوف و خطر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، ہم نے تمام مراحل آسان اور شفاف بنا دیئے ہیں، لیکن اس کی بجائے انہوں نے منفی انداز اختیار کیا اور یہ خواہش بھی ظاہر کر دی کہ مجھے بھی چینی وزیراعظم جیسے اختیارات مل جائیں تو مَیں پانچ سو افراد کو جیلوں میں ڈال دوں۔ایک منتخب وزیراعظم کو ایسے ممالک سے مثالیں نہیں ڈھونڈنی چاہئیں جہاں جمہوریت نہیں ایک خاص قسم کی آمریت ہے یا پھر سعودی عرب جیسی بادشاہت ہے۔ اب پاکستان میں تو ایک آئین موجود ہے، عدالتیں ہیں، ہر چیز کا ایک طریقہ کار ہے، کوئی کام کرنا چاہے تو اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں بس جرأت و ہمت کی ضرورت ہے، پھر یہ باتیں کیا معنی رکھتی ہیں، کیا اس بے بسی کے اظہار سے دنیا کو یہ تاثر نہیں ملتا کہ پاکستان کا نظام اتنا کرپٹ ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا وزیراعظم عملاً بھی یہی کچھ کہنا اور ابلاغ کرنا چاہتے تھے۔اگر وزیر اعظم عمران خان کے پاس واقعی پانچ سو کرپٹ لوگوں کی فہرست موجود ہے تو اسے وزارتِ قانون کے سپرد کریں۔ وہ ان پر ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے تفتیش کرائے، پھر ان کے نام ایف آئی اے کے ذریعے نیب کو بھیجے۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ نیب عدالتوں میں جج ہی موجود نہیں۔ اتنا سا کام بھی نہیں ہو رہا کہ ہائی کورٹ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی احتساب عدالتوں کے لئے خدمات ہی مانگ لی جائیں۔ نیب کے پاس اپنی نفری پوری نہیں، ریفرنسوں کی تیاری میں کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں پھر پراسیکیوشن شروع ہوتی ہے تو نیب کے پاس وکیل دستیاب نہیں ہوتے۔ جو وکیل ہوتے ہیں وہ مقابلے کے وکیلوں کی نسبت ”ماٹھے“ ہوتے ہیں اس لئے مقدمہ بھی درست طورپر نہیں لڑ سکتے۔سو نظام کو تو ہم نے خود بے بس کیا ہوا ہے، رونا ہم دوسرے ملکوں میں رو رہے ہیں۔ اگر نیب آرڈیننس میں دی گئی مدت کے مطابق ریفرنس دائر اور عدالتوں سے فیصلے ہونے لگیں تو احتساب ہوتا ہوا بھی نظر آئے۔ یہاں تو ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت معاملات کو چلایا جا رہا ہے۔وزارتِ قانون نیب قوانین کو نرم کرنے کے لئے تو کمر بستہ ہے، مگر اسے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ نیب عدالتوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے، ججوں کا تقرر بھی کیا جائے۔ ایک ہی جج دو دو احتساب عدالتیں سنبھالے بیٹھا ہے اور تاریخیں دینے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بھی یہ کہتے تھے کہ کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا، جیلوں میں ڈالوں گا اور اب بھی ان کا بیانیہ یہی ہے کہ کسی کو این آر او نہیں دوں گا، سب کو جیلوں میں رہنا پڑے گا۔ این آر او نہ دینا تو ان کا اختیار ہے، مگر وہ لوگوں کو جیلوں میں کیسے ڈال سکتے ہیں یہ تو ان کا اختیار ہی نہیں۔ مطلق العنان بننے کا خبط پاکستان میں اکثر حکمرانوں کو لاحق ہو جاتا ہے۔شاید عمران خان بھی کسی ایسے مرض کا شکار ہو گئے ہوں۔ لیکن آئین اور قانون میں اس کی گنجائش موجود نہیں۔ جس طرح چیئرمین نیب اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے سعودی فیم اختیار مانگتے ہیں، اسی طرح جمہوری ملک کا وزیر اعظم بھی اگر یہ کہے کہ مجھے پانچ سو لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے دو تو یہ ایک بے جا خواہش ہی قرار پائے گی، اسے عملی شکل میں لانا ”کھیلن کو مانگے چاند“ کے مصداق قرار پائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی واحد طاقت ان کا یہ بیانیہ ہے کہ کسی ملک لوٹنے والے کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس بیانیہ کی وجہ سے حکومت کی بری کارکردگی کو بھی عوام برداشت کر رہے ہیں۔ اس لئے یہ بات تو طے ہے کہ عمران خان نے کرپشن اور لوٹ مار کا ذکر کرتے رہنا ہے اور وہ یہ بھی کہتے رہیں گے کہ ابھی میرے پاس اختیارات نہیں، وگرنہ سب بدعنوانوں کو ایک ہی ہلے میں جیلوں کے پیچھے دھکیل دوں۔ وہ امریکہ میں تھے تو انہوں نے اس بات کا ذکر کیا، چین گئے ہیں تو اس کو سامنے لائے ہیں، اس سے پہلے وہ جہاں جہاں بھی گئے، یہ ضرور کہا کہ انہیں بری معاشی حالت میں حکومت ملی، کیونکہ قومی خزانہ پچھلے حکمران لوٹ کر لے گئے۔ ممکن ہے اس طرح کے بیانیہ سے بیرون ملک ان کی قدر افزائی میں بہتری آئی ہو لیکن اس کا یہ نقصان بھی ہوتا ہے کہ پاکستان بھی نائیجیریا جیسے کرپٹ ملکوں کی فہرست میں آکھڑا ہوتا ہے، کیونکہ اس کا وزیر اعظم ملکوں ملکوں یہ دہائی دے رہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن بہت زیادہ ہے۔
اندرون ملک وہ سیاستدانوں کو اس حوالے سے جتنا مرضی لتاڑیں، لٹیرے اور ڈاکو کہیں لیکن دوسرے ملکوں میں جا کر اس کا رونا رونے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ مثلاً کون سا سرمایہ کار ایسا ہو گا جو ملک کے چیف ایگزیکٹو کے منہ سے کرپشن کی باتیں سن کر یہ خطرہ مول لے گا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔ اصولاً تو اب چیئرمین نیب کو وزیر اعظم ہاؤس کے نام ایک چٹھی لکھنی چاہئے، جس میں وہ وزیر اعظم سے وہ فہرست طلب کریں، جو پانچ سو افراد کے ناموں پر مشتمل ہے۔ تاکہ ان کے بارے میں تحقیقات شروع کی جا سکیں۔ تاکہ وزیر اعظم عمران خان کو پھر کسی دوسرے ملک میں جا کر یہ نہ کہنا پڑے کہ اگر انہیں پانچ سو افراد جیلوں میں ڈالنے کی اجازت مل جائے تو وہ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کی اس بات کا براہ راست الزام نیب پر آتا ہے کہ وہ احتساب کا ذمہ دار ادارہ ہونے کے باوجود اس تیزی سے احتساب نہیں کر رہا، حالانکہ بدعنوان عناصر کی فہرستیں بھی موجود ہیں۔ سیاسی جلسوں میں کرنے کی باتیں اور ہوتی ہیں اور بیرونی ملکوں میں کی جانے والی باتوں کا تناظر کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ بات کپتان کے گوش گزار کرنے کی ضرورت ہے، مگر ایسی جرأت کا خطرہ کون مول لے۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں