ٹی سلیز کے ذریعے قوت مدافعت بڑھا کر کورونا سے بچا جاسکتا ہے: تحقیق

مہلک کورونا وائرس  کے حوالے سے سوئیڈن کی ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جسم میں امیونٹی یعنی قوت مدافعت  مضبوط کر لینے والے  افراد کورونا کا شکار نہیں ہو سکتے اور اس وجہ سے انہیں اینٹی باڈیز ٹیسٹ کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔

حال ہی میں کیرولنسکا یونیورسٹی اسپتال سوئیڈن کے محققین نے ان 200 افراد پر تحقیق کی جن میں کورونا وائرس کی علامات کم تھیں یا پھر تھیں ہی نہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں کورونا وائرس کی علامات کم یا پھر ہوتی ہی نہیں ان میں ٹی سیلز  (خلیات) پائے جاتے ہیں جو کسی بھی انفیکشن سے لڑتے ہیں۔ٹی سیلز انسانی جسم میں ایک قسم کے سفید خون کے خلیات ہیں جو وائرس سے متاثرہ خلیوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ قوت مدافعت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مطالعے سے اخذ کیے گئے نتیجے کے مطابق خون کا عطیہ کرنے والے صحتمند افراد میں سے 30 فیصد میں “ٹی سیل امیونٹی” اینٹی باڈیز سے دو گنا زیادہ ہوجاتی ہیں۔یعنی ایسے مریض جن میں کورونا وائرس کی علامات کم ہیں یا نہیں ہیں ان میں اگر  اینٹی باڈیز  کم ہے اس  کے باوجود بھی ٹی سیلز وائرس سے مقابلہ کرسکتا ہے۔  واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز ہو گئی ہے جب کہ 5 لاکھ سے زائد افراد بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن تاحال اس کے علاج کے لیے دنیا بھر  کے سائنسدان  اور طبی ماہرین اس کی کوئی باقاعدہ ویکسین تیار کرنے میں ناکام ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں