ٹیکنالوجی کا بے قابو جن

کلاسیکی کہانیوں میں جن، دیو اور پریاں ہوا کرتی تھیں، جو لوگوں کی مدد کیا کرتی تھیں اور ان کےلیے آسانیاں پیدا کیا کرتی تھیں۔ سب ہی نے کم و بیش یہ کہانیاں پڑھی ہوں گی۔ ان کہانیوں میں جادو اور سحر کے عنوان سے عجیب تخیلات بیان کیے جاتے تھے۔ اڑن قالین، جام جم یعنی جمشید جادوگر کا وہ پیالہ، جس میں وہ ساری دنیا کے حالت دیکھ لیا کرتا تھا۔ جادوئی گولہ بارود نارنج و ترنج، سلیمانی چادر جس کو اوڑھ کر کردار غائب ہوجایا کرتے تھے اور ایسی ہی بے شمار دیگر جادوئی اشیا اور مناظر۔

یہ تمام خیالی اور جادوئی چیزیں دورِ حاضر میں ایک جن نے اپنی حیرت انگیز طاقتوں اور صلاحیتوں سے عملی اور مادی شکل میں مہیا کردی ہیں اور اس جن کا نام ہے ٹیکنالوجی۔ اڑن قالین جہاز اور جیٹ کے مرحلوں سے ہوتے ہوئے اب اسپیس شپس بن چکے ہیں۔ جادوئی جنگی گولے نارنج و ترنج اب ڈرٹی بم اور میزائلز کا روپ دھار چکے ہیں۔ جام جم ٹیلی وژن سے لے کر موبائل اسکرینز تک آگیا ہے اور سیلمانی چادر جیسی غائب کردینے والی سائنسی اشیا بھی دستاب ہیں، گو کہ ابھی زیادہ عام نہیں ہوئی ہیں۔یہ سب کرشمات ٹیکنالوجی نامی جن نے دکھائے ہیں۔ چند صدیوں قبل تک یہ جن مشرق کے اور مسلمانوں کے قبضے میں تھا اور اس وقت مشرقی اور اسلامی تہذیب کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب میں ہوا کرتا تھا۔ لیکن زمانے کے تغیرات، حالات و واقعات سے یہ جن مشرقی قبضے سے نکل گیا اور مغرب کے سائنسی عاملوں نے کئی سو سال کی ریاضت اور چلہ کشی کے بعد اسے قابو کرلیا اور آج کل یہ مغربی تہذیب کو بام عروج عطا کیے ہوئے ہے اور وہ زمین و آسمانوں میں دھوم مچا رہے ہیں اور دنیا کو اپنی تہذیب کی چمک سے مسحور کرکے رکھا ہوا ہے۔لیکن کیا بات اتنی ہی سادہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس جن کو قابو کرکے انسانیت کو صرف فوائد اور سہولیات ہی ملی ہیں یا تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے؟ مانا کہ ٹیکنالوجی اور سائنس نے ہمیں بے شمار فوائد، سہولیات اور آسانیاں دی ہیں۔ برقی رو، فون،انٹرنیٹ، علاج معالجے کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی، رسل و رسائل کے ذرائع اور سفری سہولیات میں زبردست آسانیاں، رابطہ کاری کے بہت سے وسائل اور اس دورِ جدید میں ایجاد شدہ دیگر بہت سی اشیاء وغیرہ۔ یہ سب اب آپ کی عام رسائی اور فنگر ٹپ پر ہیں۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کے جن نے جہاں بہت کچھ دیا ہے وہیں بہت کچھ چھین بھی لیا ہے اور سود و زیاں کا حساب رکھنے والے کچھ اہل نظر یہ بھی کہتے پائے گئے یہ لینا اس دینے سے بہت زیادہ ہے۔میں علامہ کے شعر میں مشینوں اور ٹیکنالوجی پر کی گئی تنقید کہ ’’ہے دل کےلیے موت مشینوں کی حکومت، احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات‘‘ جیسی باتوں کو دلیل بالکل نہیں بناتا۔ حالانکہ اس ٹیکنالوجی سے بھری مشینی دنیا کی مشینوں نے انسانوں سے ان کے بہت سے فطری خواص کس بے رحمی سے چھین لیے ہیں اور مادہ پرست تہذیب نے اپنی تہذیبی ترقی اور چکاچوند کا فائدہ اٹھا کر انسانی اور دینی اخلاقیات پر اپنے مادرپدر آزاد نظریات اور اعمال کی ترویج کرتے ہوئے کیسی ضرب لگانے کی کوشش کی ہے اور کیسے انسانوں کو رفتہ رفتہ مشینوں میں ڈھالتی جارہی ہے کہ بس کسی بھی اخلاقیات کی پرواہ کیے بغیر لذات اور آسائشات کے حصول کےلیے ہر طریقہ اور ترکیب حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر استعمال کر گزرو۔ کیونکہ یہ حلال و حرام کا تصور تو ان کی آزاد تہذیب میں ہے ہی نہیں۔ میں تو کچھ ٹھوس حقائق پر بات کروں گا اور ان میں سب سے پہلے ہے گلوبل وارمنگ۔ٹیکنالوجی کے استعمال کےلیے بنائے گئے نظاموں نے عالمی موسم بگاڑ دیا ہے۔ اوزون کی تہہ جو ہمیں سورج کی ہلاکت خیز شعاعوں سے تحفظ دینے کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ اور غلاف تھا، وہ فریج اور ائیرکنڈیشنز میں استعمال ہونے والی گیسز کے بے تحاشا اضافے کی وجہ سے کئی جگہ سے پھٹ چکا ہے۔ لکڑی کے حصول کےلیے جنگلات کے بے تحاشا کٹاؤ کی وجہ سے دنیا یعنی کرۂ ارض کے پھیپڑے خراب ہورہے ہیں اور فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن کا قدرتی تناسب بگڑ چکا ہے۔ جس سے گرین ہاؤس افیکٹ جھوم جھوم کر رقص کررہا اور لمبی لمبی چھلانگیں لگارہا ہے۔ قطبین بھی اب ہزاروں سال سے منجمد حالت میں رہنے سے تنگ آگئے ہیں اور پگھلنے کے موڈ میں آگئے ہیں۔ جس سے زبردست طوفانوں اور بدترین موسمیاتی تغیرات کا خطرہ آنکھیں دکھا رہا ہے۔ پھر آتی ہے پڑمانو شکتی یعنی ایٹمی یا نیوکلیئر پاور، جس نے دنیا بھر کو گویا بارود کے ڈھیر پر بٹھادیا ہے۔اور ابھی جیسے کشمیر کے معاملے پر ہندوپاک کی نیوکلیئر ریاستیں آمنے سامنے بظاہر گنڈاسہ تھامے کھڑی ایک دوسرے کو للکار رہی ہیں اور اگر خاکم بدہن کوئی ایسی ویسی بات ہوگئی، یعنی جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے تو پھر اس کے اثرات صرف برصغیر تک نہیں رہیں گے بلکہ سارا کرۂ ارض بدترین طور پر متاثر ہوگا۔ ابھی چند دن پہلے ہی بی بی سی نے اس پر پوری تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جو اس شعبے کے ماہرین کی تیار کردہ ہے۔ اور بھی بہت سی باتیں اور خطرات و خدشات ہیں جو سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے یا اگر ہمدردانہ انداز میں کہا جائے تو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اس گلوبل ولیج میں ان کمپنیوں اور سرمایہ دار بڑے ممالک کے بے تحاشا منافع کےلیے کیے جانے والے سرمایہ دارانہ اقدامات کےلیے اس کے یعنی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی وجہ سے نہ صرف پیدا ہوچکے ہیں بلکہ جوان ہوکر آنکھیں دکھا رہے اور جائیداد میں سے حصہ بھی مانگ رہے ہیں۔آخر میں چلتے چلتے موجودہ سائنسی دنیا کے امام آئن اسٹائن کی ایک بات شیئر کرتا چلوں کہ کسی نے ان سے پوچھا تھا کہ جناب آپ دنیا کے ذہین ترین انسان اور بڑا دماغ کہلاتے ہیں، اور بجا طور پر کہلاتے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ میں کون سے ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔ وہ ستم ظریف سوال سن کر کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر بولا کہ یہ تو میں یقین سے نہیں بتاسکتا، لیکن یہ یقین سے بتا سکتا ہوں کہ چوتھی عالمی جنگ میں کون سے ہتھیار استعمال ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ کون سے؟ آئن اسٹائن بولا ’پتھر اور ڈنڈے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں