واشنگٹن پوسٹ بھی کشمیریوں پر تشدد کی داستان سامنے لے آیا

واشنگٹن امریکی جریدہ واشنگٹن پوسٹ بھی تشدد کا شکار کشمیریوں کی داستان سامنے لے آیا ، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے 4 کشمیریوں کو6 اگست کوحراست میں لیا۔پچیس سالہ یاسین بھٹ سمیت چاروں کشمیری آج بھی شدید خوف کا شکار ہیں ،متاثرہ کشمیری نوجوان یاسین بھٹ کا کہنا ہے  فوجیوں نے تاروں سے میری کمر اور ٹانگوں پر مارا ، بھارتی فورسزنے میرے سینے پر بجلی کے جھٹکے دیے ، ہمیں برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔امریکی جریدے کا کہنا ہے بھارتی فوج راڈز، ڈنڈوں ، تاروں سے مارتی اور بجلی کے جھٹکے دیتی ہے ، بھارتی فورسز نے 13 سال سے کمرعمر بچوں کو بھی پکڑ رکھا ہے۔بھارتی فورسز کی جانب سے  نہ صرف کشمیریوں بلکہ  صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس  پر بھی تشدد کا سلسلہ جاری ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق  گزشتہ ماہ  صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس  سے بھی بھارتی فورسز نے بد تمیزی کی ۔ بھارتی اہلکاروں نے کرفیو اور میڈیا پاسز دکھانے کے باوجود علاقے کے وزٹ کی اجازت نہ دی ، صحافیوں سے بد تمیزی کی گئی جب کہ خاتون صحافی رفعت محی الدین نے کہا کہ  بھارتی سکیورٹی فورسز نے میری ذات اور میرے خاندان کے بارے میں  غلیظ زبان استعمال کی اور ہراساں کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق  رفعت محی الدین کا کہنا ہے کہ جن انہوں نے اپنا کرفیو پاس دکھایا تو اہلکاروں نے ان کی گاڑی پر لاٹھیاں برسائیں ، اسے قبضے میں لینے اور مجھے سنگین نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکیاں دی گئیں ۔   اہلکاروں نے مجھے گاڑی سے نکال کر باہر بٹھا دیا اورایک فوٹو جرنلسٹ کا کیمرہ توڑ دیا جبکہ ایک اور کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میڈیا سہولیات مرکز میں متعدد صحافیوں نے پولیس کی طرف سے ہراساں کرنے کی شکایت کی ، ایک صحافی نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے مجھے اپنی گاڑی دو کلو میٹر دور کھڑی کرنے پر مجبور کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں