نیب قانون کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے جیسے مرضی استعمال کریں، چیف جسٹس

نیب قانون کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے جیسے مرضی استعمال کریں، چیف جسٹس
ویب ڈیسکویب ڈیسک 7 اگست 2019 ج محمد ارشد ملک سلام آباد : سپریم کورٹ نےملزم حشمت اللہ شاہ کوبری کرنےکاحکم دےدیا، چیف جسٹس نے اہم ریمارکس میں کہا نیب قانون کایہ مطلب نہیں کہ آپ اسےجیسےمرضی استعمال کریں ، نیب قانون کاغلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ نتفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملزم حشمت اللہ شاہ کیس کی سماعت کی، حشمت اللہ پر لوگوں سے کاروبار میں شراکت داری کےلئے دو کروڑ 70 لاکھ روپے لے کر خرد برد کا الزام تھا۔ وکیل ملزم نے کہا کہ حشمت اللہ 1986 سے کاربار کر رہا تھا، 2003 سے 2007 کے دوران 24 افراد نے بزنس میں شراکت کے لیے انوسمٹ کی۔ وکیل نیب نے عدالت کو بتایا ملزم نے لوگوں کو دعوت دی کہ اس بزنس میں پیسے لگائیں، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ امانت کے طور پر پیسے دینے اور بزنس میں لگانے میں فرق ہوتا ہے، تمام بزنس ضروری نہیں کامیاب ہوں، اکثر بزنس ناکام ہو جاتے ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نیب قانون سے متعلق اہم ریماکس دیتے ہوئے کہاکہ نیب قانون کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے جیسے مرضی استعمال کریں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ پہلے ہم سنتے تھے کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے نیب قانون کا استعمال کیا جاتا تھا، اب سول سوسائٹی کو کرمنل لاءکے ذریعے ڈیل کیا جا رہا ہے، نیب قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم حشمت اللہ کو چار سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، بلوچستان ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں