نوازشریف کے وکیل کے جج ارشد ملک کے بیان حلفی کو ریکارڈ کا حصہ بنانے پردلائل

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ اسٹیل مل میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ، خواجہ حارث نے پیپر بک میں غلطیوں کی نشاندہی کی تو عدالت نے مسنگ دستاویزات پیپر بک میں شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سابق جج ارشد ملک کے بیان حلفی کی مصدقہ نقول وکلا اور نیب کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل پر سماعت کی۔خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے پیپر بک کی غلطیوں کی نشاندہی کی ، عدالت نے غیرمتعلقہ دستاویزات ریکارڈ میں شامل ہونے پر معاونت کا کہا ۔خواجہ حارث نے سابق جج ارشد ملک کی پریس ریلیز اور بیان حلفی کو ریکارڈ کا حصہ بنانے پردلائل دیئے تو جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ عدالت نے دستاویزات کو اپیل کے ساتھ منسلک کیا ہے،جو ریکارڈ کا حصہ ہے ۔خواجہ حارث نے بیان حلفی فراہم کرنے کی استدعا کی ، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا وکیل صفائی اور پراسیکیوشن نے بیان حلفی سے متعلق عدالت کی معاونت کرنی ہے ، شواہد کا حصہ بنائے گئے دستاویزات پیپر بکس میں شامل نہیں ہوئے تو نشاندہی پر شامل کرلیا جائے گا۔خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل کے ریکارڈ سے متعلق 5ہزارسے زائد صفحات ہیں ،3ماہ میں دلائل مکمل کرلیں گے ۔عدالت نے سابق جج ارشد ملک کے بیان حلفی کی مصدقہ نقل نواز شریف کے وکلا اورنیب کوفراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 7 اکتوبرتک ملتوی کردی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں