معدے کے امراض: اسباب اور علاج کیا ہے؟

انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ جس چیز سے فرحت محسوس کرتا ہے اسے ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے لگتا ہے۔

کبھی اس میں کچھ مزید اشیاء کا اضافہ کردیتاہے جنہیں وہ سمجھتا ہے کہ مفید ہیں۔اگر ان اشیاء کا مزاج اور ایسی اغذیہ ا ستعمال کرنے والے مزاج موافق نہ ہو یا موسم کے ساتھ موافقت نہ رہے تو یہی اشیاء بیماری کا سبب بنتی ہیں۔ اسے’ غذائی بے اعتدالی‘ کہتے ہیں۔ کیمیاوی ادویہ کے استعمال کے بعد اکثر حضرات نے غذا ، اس کے مزاج، اس کی افادیت کے علم کو پسِ پشت ڈال دیا مگر استعمال ضرور کیا، جس کے باعث معدہ اور اس کے ملحقات متاثر ہوتے ہیں۔غذا کی اہمیت کا اندازہ اس کیفیت سے لگایا جاسکتا ہے کہ مویشی گھاس کھاتے ہیں مگر یہ گھاس ان میں گوشت پیدا کرتی ہے اور ان میں خون بناتی ہے ۔ مزاجاً گوشت ، گرم و خشک ہے مگر گھاس سرد و ترہے۔ یہی حال انسان کا ہے کہ کوئی بھی غذا ہو، وہ چربی، گوشت یا خون ہی بنائے گی لہٰذا اگر غذا میں نشاستہ (اسٹارچ) زیادہ ہے تو چربی کا موجب بنے گی۔ اگرلحمیات (پروٹین) زیادہ ہیں تو گوشت بنائے گی۔اگر سیال (مائع )کی مقدار جیسے’ کدو‘ زیادہ ہے تو خون بنائے گی۔ ایسی اغذیہ جن میں سیال زیادہ ہے جن میں پھل بھی داخل ہیں، کی اصلاح نہ کی جائے تو بلغم (کچا خون) بنادیتی ہیں۔ اکثریت دیکھنے میں آتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے بہت سی اغذیہ کا مرکب استعمال کرتے ہیں اور آنتوں کے بخار میں مبتلاہوجاتے ہیں یا ذیابیطس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ آنتوں میں سردی گرمی کی بے اعتدالی بخار کا موجب ٹھہرتی ہے جب کہ غذا میں چکنائی کا زیادہ استعمال ذیابیطس کا سبب بنتا ہے۔غذا میں ہاضمے کے وقت ترشی حد سے بڑھ جائے تو خون میں تیزابیت کے بڑھنے کی وجہ سے خارش ہوجاتی ہے مگر ابتلائے مرض یہ وجہ بتانے سے قاصر رہتا ہے کہ اس نے کیا غذا استعمال کی تھی کیوں کہ اس کے نزدیک غذا طاقت بڑھانے کا ذریعہ ہی ہے باعث علالت نہیں۔ ان تمام اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے علم طب میں معدے کی ہربیماری کو ’ام الامراض‘ کہا جاتا ہے اور غذا، استعمال ، پرہیز پر زور دیا جاتا ہے۔

پیٹ کے امراض کے اسباب:

(1)بھوک کی زیادتی کی وجہ سے جو غذا مرغوب ہوتی ہے اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال(2)غذا میں زیادہ چکنائی یا غذا جس میں نشاستہ دار اجزاء زیادہ ہوں۔جیسے آلو کا بے دریغ استعمال(3)کم چبانا4) غذا کھانے کے بعد پانی پینا(5)بغیر اصلاح کے غذا کا استعمال(6)غذا میں سرخ مرچ کا زیادہ استعمال7)پرانی غذا مثلاً رکھا ہوا گوشت کا استعمال۔(8کھانے کے بعد ریاضت میں بے اعتدالی(9قبض اور ریح کے پیٹ میں ہوتے ہوئے غذا کا استعمال۔10)دماغی پریشانی11)کھانے کے بعد پیٹ پر سردی لگنا12)دیر تک بائیں کروٹ پر سونا13) نیند کی کمی(14)عمر کے لحاظ کئے بغیر غذا کا استعمال(15)کھانے کے فوراً بعد نہانا(16)رات والے کھانے کے فوراً بعد محو استراحت ہونا۔

معدے کے امراض کا تفصیلی جائزہ

بھوک کی کیفیت میں معدے کی رطوبت کا افراز نسبتاً کم ہوتا ہے ، ایسی کیفیت میں اکثر لوگ غذا کا بہت زیادہ استعمال کرلیتے ہیں اور جلدی جلدی، کم چباتے ہوئے نگلتے ہیں جس کے نتیجے میں بدہضمی، سینے میں جلن وغیرہ پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر پکوان کا استعمال بہت بھوک میں کیا جائے تو تیزابیت بڑھ جاتی ہے ۔ بعض لوگ اپنے آپ کو مضبوط بنانے کی کوشش میںبغیر ضرورت چکنائی اور تلی ہوئی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں۔میرا مشاہدہ ہے کہ ایسے لوگ ذیابیطس اور موٹاپے پھر دل یا پھیپھڑے کے عوارض کا شکار ہوگئے ۔ اسی طرح بہت لوگ کھانے کے بعد ہاضمے کی منطق کے ساتھ غذا کے فوراً بعد پانی پینے کے عادی ہیں۔ اس سے معدے کی رطوبت پتلی اور کمزور ہوجاتی ہے نتیجتاً غذا ہضم نہیں ہوتی۔ قدیم حکماء اس عادت کو مضر جانتے ہوئے کہتے ہیں:’’غذا کے بعد پانی پینے سے بہتر ہے، زہر پی لو‘‘کیمیاوی ادویہ کے استعمال کرنے والے حضرات غذا کے مزاج اور اہمیت کی سمجھ کو پرانی سوچ کا نام دیتے ہیں اور غذا کے نقصان کو نہیں مانتے اس لئے غذا کو ٹھہر ٹھہر کر کھانے کے بجائے عجیب طرح استعمال کرتے ہیں جس سے پیٹ درد، اپھارہ، اسہال کا شکار ہوجاتاہے۔ گاہے غذا زہر کی صورت اختیار کرلیتی ہے جسے اصطلاح میں Food Poisonکہتے ہیں۔ یہ حضرات گھی، مرچ، پکوان کا بے جا استعمال ، مرغن غذا کا بغیر مصلح کے استعمال کرتے ہیں اور غذا کے بعد بیٹھے ہی رہتے ہیں، یوں بواسیر کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اکثر خواتین کو سنا گیا کہ رکھی ہوئی غذاکھائی پیٹ کے امراض کا شکار ہوگئیں کیوںکہ پرانے کھانوں میں اکثر لیس آجاتی ہے جو پھپوندی کی نشاندہی کرتی ہے۔ محنت کش حضرات تھکاوٹ کی وجہ سے بیمار اس لئے ہوتے ہیں کہ رات کو زیادہ کھا کر جلدی سوجاتے ہیں جس سے غذا معدے میں رہ جاتی ہیں ۔اکثر مشاہدہ ہے کہ لوگ بائیں کروٹ پر سوتے ہیں، اسی طرف معدہ کی وہ سائیڈ ہوتی ہے جہاں کھانا جمع ہوتاہے۔ اسی وجہ سے غذا معدے میں رہ جاتی ہے ۔ رطوبتِ ہاضمہ اس کے ساتھ آمیزہ بنا کر اس قدرترش بناد یتی ہے کہ معدے میں السر لاحق ہوجاتا ہے ۔ خشک موسم میں قبض کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔اس کیفیت میں غذا معدے سے آنتوں کی جانب پھسلتی ضرور ہے مگر آنتوں میں جمع ہوجاتی ہے نتیجتاً اپھارہ ہوجاتا ہے۔ اگر غذا میں زیادہ محرک مصالحہ موجود ہو تو آنتوں میںگرمی، پیٹ درد، قولنج وغیرہ جنم لیتی ہیں۔ دفتر ی لوگ سوچ بچار میں رہتے ہوئے پائے گئے، دیکھا گیا کہ معدے میں ہوا کا شکار ہوجاتے ہیں کیوں کہ سوچ بچار کی موجودگی میں رطوبات کا ہاضمہ کا افراز ٹھیک طور پر نہیں ہوا۔سرد موسم میں جوانوں کو اس حال میں محوِ استراحت دیکھا گیا کہ پیٹ پر چادر نہیں تھی۔ صبح جب وہ بیدار ہوئے تو ریح معدہ میں مبتلا تھے۔ سبب یہ ہے کہ غذا معدے میں حرارت کا باعث ہوتی ہے اگر باہر سے سردی پیٹ پر لگ جائے تو معدے کی حرکت متاثر ہوتی ہے۔اگر غذا کا امتزاج ہو تو ہاضمہ سہل ہوتا ہے ۔ زیادہ گرم غذا استعمال کرنا معدے میں حدت کا سبب بنتی ہے۔ کھانے کے فوراً بعد نہانے سے ہیضہ ہوجاتا ہے۔ ایک بڑا طبقہ عمر کا لحاظ کئے بغیر غذا کا استعمال کرنے لگتا ہے اور دائمی امراض شکم میں مبتلا ہوجاتاہے لہٰذا بچپن اور بڑھاپے کی عمر میں گھی، مرغن، خشک ، نشاشتہ دار غذا کا استعمال نہیں کرنا چاہئیے۔

سرخ مرچ کی تباہ کاریاں، متبادل کیا ہے؟

سرخ مرچ کا خاص جوہر کیپسیسین Capsaicin ہے جو قوی محرک ہے۔ غذا میں اس کا استعمال غذا کو ہضم کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے جبکہ اصل میں فالج اور دیگر بلغمی امراض میں مستعمل ہے۔ جن میں بلغم نظام اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہو۔ اس کے نفوذکرنے کی صلاحیت اس قدر ہے کہ ہڈی کی سوجن میں Capsacin 0.025%کا لیپ ہڈی کے درد کو عارضی طور پر روک دیتا ہے۔ جو چیز ہڈی میں نفوذ کرسکے ، اس کا معدے جیسے نرم گوشت میں نفوذ کس قدر ہوگا۔ اس کی جگہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال مفید ہے جس کا جوہر پائی پیرائن ہے جو اینٹی آکسی ڈینٹ ہونے کے ناتے مفید ہے اور پسینہ لاتا اور بخار اتارتا ہے۔

کھانوں کے بعد یا پہلے ریاضت کی تفصیل

ناشتے میں ہلکی غذا استعمال کی جاتی ہے اس لئے دوگھنٹے بعد ورزش کرنی چاہئے البتہ ہلکی چہل قدمی کی جاسکتی ہے۔ بڑے کھانے کے بعد لیٹ جانا چاہیے۔ آدھ گھنٹے بعد ہلکی چہل قدمی کرسکتے ہیں مگر ریاضت، ورزش چارگھنٹے بعد کریں۔ رات کو ہلکا کھانا بہتر ہے، کھجور کا استعمال دودھ کے ساتھ ، یہ غذا مقدار میں قلیل مگر غذائیت کافی سماتی ہے پھر 15منٹ بعد چہل قدمی ضرور کرنی چاہئے۔

 ڈپریشن والے کیا کریں؟

اگر ڈپریشن سے دل کی ڈھرکن تیز ہے تو کلاسیکل میوزک کا سننا بہتر ہے۔ یہ دل کی رفتار کو معتدل کردیتا ہے ۔ اگر طبیعت بیٹھ رہی ہو، کسی کام میں دل نہ لگ رہا ہو ، پاپ میوزک بہتر ہے کہ طبیعت میں ہیجان پیدا کرتا ہے۔ ویسے بھی طب کی دنیا میں دل کی دھڑکن کی مثال ڈھول سے اور معدے اور آنتوں کی حرت کی مثال رقص سے لی جاتی ہے۔

احتیاط

(1جب بھی ہوٹل یا کسی جگہ سے کھانا خریدنا ہوتو اس کے مصالحہ جات کا پوچھیں کہ کون کون سے مصالحے استعمال کئے۔(2)چٹ پٹی غذاؤں سے پرہیز کریں۔(3)کھانے کے بعد معمولی ورزش کو معمول بنائیں۔(4)سرخ مرچ کے بجائے کالی مرچ کا استعمال کریں۔(5)قبض نہ ہونے دیں اگر ہوجائے تو شہد خالص برگ سناء مکی سفوف 1/2چائے کاچمچ استعمال کریں۔نشاستہ دار غذا کا خون کی شکر سے تعلقزیادہ نشاستہ دار غذا استعمال کرنے سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے کیوں کہ جب استحالہ کے دوران نشاستہ کی آب پاشی ہوتی ہے تو شکر کی وافر مقدارپیدا ہوجاتی ہے۔

جزوی علاج

(1) زیادہ پتلی، ناقص غذائیں استعمال کی جائیں تو پہلے تھوڑی ورزش کی جائے، اگر پھر بھی ہاضمہ نہ ہو تو سفوف اجوائن دیسی، کندر رومی، زیرہ ایک چائے کا چمچہ استعمال کریں۔(2)غذا کی اصلاح مثلا ًپھلوں کی اصلاح کالی مرچ سے ہوتی ہے۔(3)ناقص غذا کھا لی جائے تو اجوائن دیسی اور پودینہ کا قہوہ پئیں۔(4)کسی وجہ سے پیٹ میں ریح پیدا ہورہی ہو تو ترپھلہ کا سفوف روغن بادام میںہلکاسا پکا کر استعمال کریں۔(5)صبح جلدی بیدار ہونے والے حضرات کو چاہئے کہ مغرب کے وقت کے بعد کھانا نہ کھائیں۔ زیادہ بھوک ہوتو ہلکی اور رقیق غذالیں۔

مکمل علاج

کھانے کے 3.5گھنٹے بعد بھی پیٹ میں بھاری پن ہو تو ذیل کانسخہ لیں:(1)ہلیلہ کابلی 6 گرام، نمک ہندی 3 گرام، غاریقون 3 گرام، سقومونیا 3گرام، اسارون 2 گرام، انیسون 2گرام، تخم کرفس 2گرام، تربد 7گرام، افتیمون ایک گرام، تازہ منقی 5گرام، قرنفل ایک گرام۔(2)اگر متلی کی کیفت ہو تو خامرات پیپسین، پیپین کا شربت لیں۔(3)سرخ مرچ میں پکی غذاکے بعد مروڑ ہوں، پیٹ میں درد ہو تو السی اور ملٹھی کا سفوف لیں یا پھر سیرپ Bismuth Subsalicylate 85mg لیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں