لندن ایک مرتبہ پھر بھارت مردہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا

لندن: (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد لندن کی سڑکوں میں ایک مرتبہ پھر مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی اورمظاہرین نے ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘، ’’کشمیر کو انصاف چاہیے‘‘، ’’مودی مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ پورا شہر بلند شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کو گھیر لیا۔لندن میں ’’کشمیر فریڈم مارچ ریلی‘‘ نکالی گئی، اس ریلی میں شرکت کے لیے برطانیہ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں شہری مختلف جگہوں سے بڑی تعداد میں کوچز میں بیٹھ کر آئے، پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاج کے بعد شرکاء ریلی کی شکل میں بھارتی ہائی کمیشن کی طرف روانہ ہوئے جس کے باعث شہر کی سڑکوں کا بدترین ٹریفک جام ہوا۔مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور ایک ماہ سے کرفیو لگانے پر نعرے لگائے گئے، یہ مظاہرہ لندن کی پارلیمنٹ سے شروع ہوا اور بھارتی ہائی کمشن کے باہر ختم ہوا، ریلی میں مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے بہن بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔یہ بھی پڑھیں: لندن:تاریخ کا بڑا مظاہرہ، بلجیم، اٹلی، امریکا، فرانس، ہالینڈ میں بھی احتجاج،بھارت مخالف نعرے
مظاہرین کی جانب سے گرمجوشی اور بلند شگاف نعروں نے ماحول کو گرما دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت فی الفور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال اور کرفیو ختم کرے۔ عالمی تنظیمیں ویسا کردار نہیں کر رہیں جیسا انہیں کرنا چاہیے۔س مارچ کا اہتمام کشمیریوں اور برطانیہ میں رہنے والی دائیں بازو کی تنظیموں نے کیا۔ مظاہرین نے گاندھی کے مجسمے کو بھی کشمیر کا پرچم تھما دیا۔

احتجاج میں پاکستانی اور کشمیری شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ مقبوضہ کشمیر کے حق میں اور بھارت مخالف ریلی کے روٹ پر ٹریفک جام ہوگیا۔یہ بھی پڑھیں: کشمیر پر پاک بھارت کشیدگی برطانیہ پہنچ گئی، صورتحال خراب ہونیکا اندیشہمارچ کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے بدترین تشدد سے متاثرہ افراد کی تصاویر اور بینرز اٹھا رکھے تھے، وادی میں بھارتی افواج کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف نعرے بازی بھی کی جاتی رہی۔یاد رہے کہ اس سے قبل لندن میں کشمیریوں کے مظاہرے کے دوران 15 ارکان پارلیمنٹ نے 10 ڈاوننگ سٹریٹ پر پٹیشن پیش کی۔ پٹیشن میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔اس سے قبل بھی 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر کشمیریوں کی بڑی تعداد نے لندن میں مظاہرہ کیا تھا۔ بھارت کیخلاف مظاہرے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی تھی، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں