قتل نہیں صرف لاشیں ٹھکانے لگاتا تھا، یوسف ٹھیلے والا اعتراف جرم سے مکر گیا

کراچی: ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر یوسف ٹھیلے والا کے خلاف 24 سال پرانا مقدمہ ری اوپن ہوگیا، ملزم عدالت کے سامنے لوگوں کو قتل کرنے کے اعتراف جرم سے مکر گیا اور کہا کہ قتل کوئی اور کرتے تھے میں صرف لاشوں کو ٹھکانے لگاتا تھا۔

کراچی سٹی کورٹ میں ایم کیو ایم دہشت گرد یوسف عرف ٹھیلے والا کے خلاف 1995ء میں درج 24 سال پرانا مقدمہ ری اوپن ہوا اور سماعت ہوئی۔ ملزم کو سخت سیکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جہاں وہ چند روز قبل نیوز چینلز پر نشر ہونے والے بیان سے مکر گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے خلاف متعدد قتل کے مقدمات درج ہیں اتنے قتل کیسے کیے؟ ملزم نے بیان دیا کہ میں نے آج تک کوئی قتل نہیں کیا، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ پر اتنے مقدمات کیسے قائم ہوگئے؟ملزم نے کہا کہ 1995ء میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی، آج تک کوئی قتل نہیں کیا صرف لاشوں کو ٹھکانے لگایا، ندیم ماربل اور ریاض عرف چاچا لوگوں کو اغوا کرکے قتل کرتے تھے میں قتل کی واردات کے بعد لاش ٹھیلے پر رکھ کر ٹھکانے لگاتا تھا اور 1995ء سے 1997ء تک 15 سے 20 لاشوں کو ٹھکانے لگایا۔ملزم نے کہا کہ 1997ء میں رینجرز نے گرفتار کیا اور 7 سال سزا کاٹنے کے بعد رہائی ملی، رہائی بعد میں اس کام سے توبہ کرلی اور کبھی دوبارہ ایسا کام نہیں کیا۔ عدالت نے پوچھا کیا کہ نیوز چینلز پر دکھایا گیا کہ آپ نے قیادت کے کہنے پر قتل کیے؟ ملزم نے بیان میں کہا کہ نہیں وہ بیان ٹھیک نہیں۔عدالت نے پوچھا کہ کس کے کہنے پر قتل کرتے تھے کون اوپر سے حکم دیتا تھا؟ ملزم نے بیان میں کہا کہ نہیں کسی کے کہنے پر قتل نہیں کیا ندیم ماربل اور ریاض قتل کرتے تھے اور یہ دونوں ہی مجھے لاش ٹھکانے لگانے کا کہتے تھے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کے خلاف ایس ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ کی اجازت کے بعد مقدمہ ری اوپن کیا گیا، ملزم سے تفتیش درکار ہے لہذا ریمانڈ دیا جائے۔عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت ملزم کو پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دے چکی ہے۔ عدالت تفتیشی افسر کو کیس کا چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں