عصا نہ ہو تو ہے کارِ کلیم بے بنیاد

آج کل پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم امریکہ میں ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ اقوامِ عالم کو مسئلہ کشمیر کی است و بود سے بھی آگاہ کرے، دورِ موجود میں مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے دنیا کو آگہی بھی دلائے اور آئندہ دو جوہری ہمسایوں کے درمیان جس جنگ کا خطرہ ہے اس سے بھی خبردار کرے۔ لیکن کیا آج کی دنیا، مسئلہ کشمیر سے بے خبر ہے؟…… کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک بھی ہے جس کو یہ پتہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت روز اول سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور ”روزِ آخر“ تک دشمن رہیں گے؟یعنی یہ ستیزہ کاری ازل سے امروز تک چلی آ رہی ہے۔ یہ سیاسی آویزش نہیں، حق و باطل کا معاملہ ہے۔…… اور اگر ایسا ہے تو پھر ہم کاہے کو یہ سارا کھڑاگ کھڑا کر رہے ہیں؟
کس کو خبر نہیں کہ یہ عالمی آگہی کا دور ہے۔ دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی معمولی سا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کی خبر اس گاؤں کے ہر گھر کو ہو جاتی ہے جس کو ہم گلوبل ویلج کا نام دیتے ہیں …… ہمارے وزیراعظم مختلف ممالک کے سربراہوں سے مل کر کشمیریوں کی حالت زار کی عکاسی کررہے ہیں تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سربراہوں کو اس مسئلے سے بالکل کوئی واقفیت نہیں۔ لیکن کیا ایسا سمجھ لینا ہماری نادانی اور بے وقوفی نہیں؟ عمران خان امریکہ میں جن وی آئی پی ز سے ملاقاتیں کررہے ہیں عین ممکن ہے کہ ان کو عمران خان سے زیادہ کشمیری تاریخ کی تفصیلات کا علم ہو۔ ممکن ہے وہ انجان بن کر خان صاحب کی بپتا سن رہے ہوں،بظاہر چہرے پر حیرانی (یا زیادہ سے زیادہ پریشانی) بکھیر رہے ہوں لیکن بہ باطن سب کچھ جانتے ہوں۔ ہوسٹن میں مودی نے ہندوستانی امریکیوں کے سامنے جو تقریر کی اور جس میں امریکی صدر نے اپنا پورا وزن ڈالا، اس پر ہمارا پاکستانی میڈیا طرح طرح کی سرخیاں لگاتا رہا ہے۔ ٹرمپ کو بُرا بھلا کہنے میں پیش پیش ہے، اس کو دوغلے پن کے طعنے دیئے جا رہے ہیں، ماضی کی پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور نجانے اور کن کن نکات کا حوالہ دے کر پاکستانی پبلک کو ”گمراہ“ کیا جا رہا ہے۔ خدا کے لئے میڈیا کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور عوام کو بتانا چاہیے کہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کیا ہے، وہ عوامل کیا ہیں جو کسی ایک ملک یا قوم کو دوسرے ملک یا قوم کا ہم خیال، دوست یا دشمن بناتے ہیں۔ضرور پڑھیں: “نماز ادا کرنے کے دوران اچانک زمین ہلنے لگی، اس سے . . .” آزاد کشمیر میں زلزلہ، بزرگ والدہ نے نئی مثال قائم کردی
ہمارے ٹاک شوز کے مبصروں کو مسئلہ کشمیر پر بحث کرتے ہوئے کشمیر کی تاریخ بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پاک بھارت جنگوں کا حوالہ بھی نہ دیجئے، صرف یہ بتایئے کہ دنیا کی واحد سپرپاور (امریکہ) مودی سرکار کی طرفدار کیوں ہے۔ امریکہ کے اتحادی امریکہ کے اتحادی کیوں ہیں اور ان کا میڈیا بھارت کے گُن کیوں گا رہا ہے؟…… یہ بھی بتایئے کہ پاکستان کا موقف اگر برحق ہے تو امریکہ کے یہ اتحادی باطل پرست کیوں ہیں، ان کی پاکستان دشمنی اور بھارت دوستی کے اسباب کیا ہیں۔ ہم پاکستانی کیوں بار بار ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعرے لگا رہے ہیں، ہمارے شیخ رشید جیسے سیاستدان جوہری جنگ کی بار بار دھمکیاں کیوں دیئے جا رہے ہیں، کیا کشمیریوں کی فریاد ان طاقتوں تک پہنچ رہی ہے
جو بھارت پر کوئی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ غیر مسلموں کو تو چھوڑیں، اپنے مسلمان ممالک کا موقف ہی سن لیں کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ کیوں نہیں۔ پاکستان کا فوکس ”کشمیر“ پر ہے تو کیا اکیلا چنا پہاڑ پھوڑ سکتا ہے؟……مجھے تو یہ حیرانی بھی ہے کہ ہمارے وزیراعظم اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں اپنے خطاب سے پورے سات دن پہلے نیویارک کیوں پہنچ گئے۔ کیا جن شخصیات سے وہ مل رہے ہیں یا آنے والے ایک دو روز میں ملیں گے، ان کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی ایسا نیا ثبوت پیش کریں گے جو ان کی معلومات میں اضافہ کر دے گا۔…… مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ وہ امریکہ میں کس لئے گئے، کس کو سمجھانے گئے، کس روٹھے کو منانے گئے اور کس بے خبر کو خبردار کرنے گئے کہ کشمیر کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ضرور پڑھیں: لاہورہائیکورٹ،قتل کیس کا ملزم درخواست ضمانت منسوخ ہونے پر احاطہ عدالت سے گرفتاروزیراعظم کو نیویارک جانے سے پہلے اپنی وزارتِ خارجہ، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ دفاع کے کرتا دھرتاؤں سے یہ بریفنگ لے لینی چاہیے تھی کہ دنیا کے ان تمام بڑے بڑے ممالک کے بھارت کے ساتھ خارجی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کی نوعیت کیاہے۔ اگر وہ یہ بریفنگ لے کر ایک ہفتہ پہلے نیویارک چلے گئے ہیں تو ان کی سادگی پر ترس کھانے کو جی چاہتا ہے…… اگر ٹرمپ، عمران خان سے یہ سوال پوچھے کہ آپ چین کے ساتھ ہیں یا ہمارے ساتھ تو خان صاحب کا جواب کیا ہو گا؟ اور اگر ٹرمپ یہی سوال مودی سے پوچھے تو مودی کا جواب کیا ہو گا؟……
ہمارا میڈیا نجانے کتنی بار یہ حقیقت بتا چکا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہمالہ سے اونچی، بحرالکاہل سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے اور کتنی بار یہ تلخ حقیقت بھی واشگاف کر چکا ہے کہ امریکہ بے وفا ہے، طوطا چشم ہے اور پرلے درجے کا مکار ہے۔اگر ہم اس کے باوجود بھی امریکہ سے کسی خیر کی توقع رکھتے ہیں تو پھر ہماری ”شر پرستی“ کا سکیل کیا ہوگا؟ امریکہ خدا پرست نہیں اور بے وفا بھی سہی تو پھر: ”جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟“
ضرور پڑھیں: مریم نواز کیلئے جیل میں کیا کیا چیزیں پہنچا دی گئیں ؟ پتا چل گیامیں اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں میں آپ کو الجھائے بغیر عرض کرتا ہوں کہ دنیا کی تمام چھوٹی بڑی طاقتوں (امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، سویڈن، برازیل، ناروے، ڈنمارک، ملائیشیا، انڈونیشیا، کینیڈا وغیرہ) کی تجارتی بیلنس شیٹ بھارت کے مقابلے میں ان کے حق میں جھکی ہوئی ہے۔ بھارت ایک بڑی تجارتی منڈی ہے،اس کو کون ضائع کرنا چاہے گا؟ دوسری طرف پاکستان کی ٹریڈ بیلنس شیٹ دیکھ لیں …… اس پتھریلی مالا کو کون زیبِ گلو کرے گا؟…… دس پندرہ برس سے بھارت نے اپنے بھاری دفاعی ہتھیاروں کو روس کی بجائے امریکہ سے خریدنا شروع کیا ہوا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ دفاعی اسلحہ جات کی مارکیٹ میں یک جان دو قالب ہیں اور یہ دونوں بھارت کی دفاعی درآمدات کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہیں۔ مودی نے دفاعی پیداوار کو Made in India کے کھونٹے سے باندھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں اس کو کامیابی ہوئی ہے یا نہیں لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ امریکہ اور اس کے دوسرے حواریوں نے بھارت میں دفاعی پیداوار کے کارخانے لگا کر اگرچہ ان میں اپنی سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی منتقل نہیں کی لیکن اپنی دفاعی بیلنس شیٹ کو تو اپنے حق میں کر لیا ہے…… پاکستان ایسا نہیں کر رہا…… میں اس کی وجوہات میں جانا نہیں چاہتا۔ بیشتر قارئین جانتے ہیں کہ ہماری محدودات (Limitations) کیا ہیں …… یہ بات دوسری ہے کہ بعض محدودات کو کنٹرول کرنا ہمارے بس میں نہیں اور بعض خود اپنی ”خرید کردہ“ ہیں:
ضرور پڑھیں: زلزلے سے دراصل کتنا نقصان ہوا ؟ اعدادو شمار سامنے آ گئےگفتا کہ ز کہ نالیم کہ از ماست کہ برماست؟
(ترجمہ: کیا کہا جائے کہ کس وجہ سے رو رہے ہیں کہ ہمارا رونا، ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے)
ضرور پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کیخلاف مریم نواز کی اپیل پر ایف بی آر کو 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکمعمران خان کل اقوام متحدہ سے خطاب کررہے ہیں لیکن دس پندرہ منٹ کی تقریر میں وہ کشمیر کے بارے میں کیا نئی بات بتائیں گے؟ مجھے ان کے خلوص اور نیت پر کوئی شبہ نہیں لیکن بین الاقوامی سیاسیات میں ”خلوص اور نیت“ کا سکہ نہیں چلتا۔ وہاں ”دوغلے پن، مکرو فریب اور جھوٹ“ کا راج ہے۔ خان صاحب ریاستِ مدینہ کی بات کرتے ہیں۔لیکن ان کو تاریخ سے اگر دلچسپی ہے تو وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ آج جو قوم مائل بہ عروج ہے اس کا ایمان کیا ہے؟…… کیا ایسا کئی صدیوں سے نہیں ہو رہا؟…… کیا آج پاکستان، ریاستِ مدینہ کا ماڈل اپنا کر اس ”ترقی“ کا توڑ کر سکتا ہے جو آج کے ”ترقی یافتہ“ ممالک کا طرۂ امتیاز ہے؟ ریاستِ مدینہ کے اولین ایام پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آنحضورﷺ کے وصال کے بعد حضرت عمرؓ کے زمانے میں دارالحکومت مدینہ میں کوئی ایسا گھر نہ تھا جو زکوٰۃ کا مستحق ہوتا…… یہ سرمایہ کہاں سے آیا تھا؟…… لوگ کیسے خوشحال ہو گئے تھے؟…… غربت سے امارت تک کا سفر اتنا عاجل کیوں تھا؟…… کہا جاتا ہے کہ مدینہ کے ہر گھر میں مالِ غنیمت کے انبار لگ گئے تھے۔ چنانچہ پاکستان نے اگر ریاست مدینہ کا ماڈل اپنانا ہے یا ریاست مدینہ ہی ہماری منزلِ مقصود ہے تو وہ خوشحالی اور مرفع الحالی کہاں ہے جو عربوں کی صرف ایک نسل کے ختم ہونے سے پہلے عام ہو گئی تھی؟ کیا پاکستان کو یہ مقام حاصل کرنے کے لئے ان مسلسل جنگوں کا سہارا لینا پڑے گا جو ایران، روم، شام، عراق و مصر و فلسطین میں لڑی گئیں؟
ضرور پڑھیں: الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سے متعلق کیس،سپریم کورٹ کا ارکان کو تقرری سے متعلق جواب سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرانے کا حکمآج کی جنگیں تو مال و دولت مانگتی ہیں، خزانہ خالی ہو تو کسی جنگ کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اسلام کے ابتدائی دور کی جنگیں آج کے برعکس مالِ غنیمت لایا کرتی تھیں اور خزانے بھر جایا کرتے تھے…… ذرا اس نکتے پر بھی غور کیجئے کہ آج بھی کم و بیش یہی مساوات کار فرما ہے۔ آج کی جنگیں بھی مالِ غنیمت لاتی اور خزانے بھرتی ہیں۔ کسی کو اگر کوئی شک ہو تو امریکیوں سے پوچھ کے دیکھ لے۔ ان کے خزانے انہی جنگوں سے بھرتے رہے ہیں اور آج بھی بھر رہے ہیں۔ ہمیں یہ نکتہ سمجھنا چاہئے کہ جنگوں کا ”مزاج“ تبدیل ہو گیا ہے۔ آج امریکہ اور اس جیسے جدید ممالک اپنے سلاحِ جنگ فروخت کرکے اپنے خزانے بھرتے ہیں اور ہم جیسے ملک یہ اسلحہ جات خرید کر اپنے خزانے خالی کرتے ہیں ……خدارا اس خرید و فروخت کو سمجھیں ……غیر مسلموں نے تو ”ریاست مدینہ“ کی خوشحالی کا راز پا لیا تھا اور وہ ایک عرصے سے اس راز کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے مسلمان اگر اپنے سلاحِ جنگ فروخت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو ان کی جگہ کوئی غیر جنگی اشیاء (Items) برآمد کی جا سکتی ہیں۔ ہم اپنی تجارتی بیلنس شیٹ کو اپنے حق میں کرنے کے لئے اپنی برآمدات بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن یہ برآمدات بڑھانا کوئی آسان کام نہیں، ریاستِ مدینہ کے اس راز کو روبہ عمل لانے کے لئے انتظار، صبر، کوشش و کاوش درکار ہو گی اور پِتّہ پانی کرنا پڑے گا۔ ہمیں پہلے اس طرف جانا چاہیے اور کشمیر کی طرف رخ بعد میں کرنا چاہیے۔ضرور پڑھیں: سپریم کورٹ نے فراڈکیس کے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردیمجھے صاف نظر آ رہا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو دنیا کی نظروں میں لاکھ اجاگر کریں، دنیا ہماری نہیں سنے گی۔ دنیا کے کان زرو جواہر کی جھنکار سنتے ہیں، مظلوم و مقہور کی فریاد و فغاں نہیں سنتے۔عمران خان اوران کی ٹیم کو واپس وطن آکر پہلے اپنی تجوریاں بھرنی چاہئیں اور پھر ان تجوریوں سے سلاحِ جنگ پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنی چاہیے۔ پاکستانی قوم نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہندو قوم سے نبردآزمائی میں ہمیشہ آگے رہی ہے۔ ہمیں اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ کوشش کرنی چاہیے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل ہماری طرف دیکھے۔ کشمیر کہیں نہیں جاتا، ہم نے اسے اگر آج 72برس بعد دوبارہ زندہ کر دیا ہے تو اب یہ اہتمام بھی کرنا ہو گا کہ انڈیا سے اسے بزورِ قوت چھین لیں۔ جنرل اسمبلی میں دہائی نہ دیں۔ مودی یا اس کے کسی جانشین پر اس دہائی کا کوئی اثر نہیں ہو گا…… تاریخ کا سبق یہ ہے کہ پہلے اپنی لاٹھی کو مضبوط بناؤ کہ اگر یہ کمزور رہی تو کارِ کلیم بے بنیاد ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں