صدر ٹرمپ یہ تردد کریں گے؟

عمران خان تنہا کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، ان کی اس تنہائی نے پاکستان کو تنہا کردیا ہے۔ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں کارنر ہیں تو مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھی کارنر ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سیاست کی الف ب سے ناواقف حلقے نیب کے زور پر ملکی سیاست کو توڑ مروڑ رہے ہیں، ایسا کرکے دراصل وہ پاکستان کو توڑ مروڑ رہے ہیں۔ وہ اس نقطے کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں کہ پاکستان پاکستانیوں سے ہے، قطعہ اراضی سے نہیں، انہوں نے قطعہ اراضی کو پاکستان اور پاکستانیوں کو اپنا غلام سمجھا ہوا ہے!
ضرور پڑھیں: جمال بکر البغیور کی خالد مجید کو پاکستان قونصل جنرل بننے پر مبارکبادعمران خان ٹرمپ سے کہتے ہیں کہ وہ کشمیر میں کرفیو ختم کروائیں اور ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ مودی سے بات کریں گے اور ساتھ ہی وضاحت کرتے ہیں کہ اگر فریقین چاہیں تو وہ ثالثی کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ آیا عراق، افغانستان، شام نے ان کی ثالثی چاہی تھی اور کیا ایران ان کی ثالثی چاہتا ہے جو وہ ہر طرف مداخلت کرتے پھرتے ہیں۔ اگر وہاں بغیر چاہنے کے مداخلت ہوسکتی ہے تو بھارت کی سرزنش کیوں نہیں ہوسکتی ہے؟مگر مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین صدر ہیں تو عمران خان۔
ضرور پڑھیں: “نماز ادا کرنے کے دوران اچانک زمین ہلنے لگی، اس سے . . .” آزاد کشمیر میں زلزلہ، بزرگ والدہ نے نئی مثال قائم کردیہم بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل کروانا واشنگٹن کی ذمہ داری ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری اپنی ذمہ داری کیا ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے ایک کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کروایا جائے جبکہ دوسرا فریق اسے مسئلہ ہی نہیں مانتا ہے۔ پاکستان تو اسے مسئلہ بھی نہیں بلکہ تنازعہ سمجھتا ہے جبکہ ٹرمپ،مودی کی طرح اسے تنازعہ تو کیا مسئلہ بھی نہیں کہتے بلکہ معاملہ کہتے ہیں۔ یعنی جو ہمارے نزدیک ایک ڈسپیوٹ ہے وہ بھارت اور امریکہ کے لئے ایک ایشو ہے۔ یہی تکرار تب بھی ہوئی تھی جب جنرل مشرف مسئلہ کشمیر حل کروانے آگرہ تشریف لے گئے تھے اور مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ضرور پڑھیں: لاہورہائیکورٹ،قتل کیس کا ملزم درخواست ضمانت منسوخ ہونے پر احاطہ عدالت سے گرفتارصدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ وضاحت نہیں کرتے کہ آیا وہ صرف کشمیر پر ثالثی کروائیں گے یا پاکستان اور بھارت کے جملہ مسائل پر کروائیں گے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اگر بھارت اس ثالثی کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ ثالثی ہی نہیں کروائیں گے، حالانکہ پولیس مین ثالثی کا صرف موقع فراہم کیا کرتا ہے وگرنہ اس کے پاس دیگر آپشن بھی ہوتے ہیں۔ٹرمپ ایک اور بات کہتے ہیں کہ دونوں فریقین کچھ نکات پر ایک ہوں تو ثالثی ہو سکتی ہے گویا کہ وہ ہمارے والے کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھارت کے دعوے کو بھی مان رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں عمران خان ٹرمپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ٹرمپ مودی کی طرف!….یہ ثالثی نہیں ”آلسی“ ہے۔ یوں بھی ٹرمپ کسی جوگے ہوتے تو جنوبی کوریا، چین، ایران اور طالبان کو سرنگوں نہ کرچکے ہوتے!
ضرور پڑھیں: مریم نواز کیلئے جیل میں کیا کیا چیزیں پہنچا دی گئیں ؟ پتا چل گیاصدر ٹرمپ نے ایک اور بات کی ہے کہ دنیا کا ہر لیڈر ان سے ملنا چاہتا ہے لیکن وہ ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ہم سے اپنے مفاد میں ملنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں افغانستان سے نکلنے کا راستہ چاہئے اگرنہ حقیقت یہ ہے کہ ہم ٹرمپ کی عزت کرتے ہیں او رٹرمپ مودی کی عزت کرتے ہیں۔ ٹرمپ ایک چائے والے اور ایک کرکٹر کے مابین بیٹھے چائے اور کرکٹ کا مزہ لے رہے ہیں!وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے عمران خان کو ایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دے دیا ہے، بہت اچھی بات ہے کہ لیکن ہم بھی تو ٹرمپ کو مودی سے بات چیت کا مینڈیٹ دیئے ہوئے ہیں، اگر ٹرمپ سے مودی نہیں مانتا تو ہم حسن روحانی کو کیونکر منالیں گے۔ ویسے عجیب بات ہے کہ عمران خان ٹرمپ سے افغانستان کی بات کرنے گئے تھے اوروہ ایران کی ذمہ داری لے کر آرہے ہیں!….عمران خان کشمیر کا سفیر بن کر گئے تھے، وہ واشنگٹن کا ایمبیسیڈربن کر واپس آئیں گے!!!ضرور پڑھیں: زلزلے سے دراصل کتنا نقصان ہوا ؟ اعدادو شمار سامنے آ گئےسوال یہ ہے کہ کشمیر کی طرح پاکستان عالمی سطح پر تنہا کیوں نظر آرہا ہے۔ عمران خان اس طرح کا پریشر نہیں لے پا رہے ہیں جس طرح کا پریشر لینا ایک سیاستدان کا خاصہ ہوتا ہے۔ نواز شریف کے ہاتھ میں پرچیاں تھیں جن پر اہم نکات لکھے ہوتے ہوں گے، عمران کے ہاتھ میں تو تسبیح ہے جس کے دانوں پر خدا کا ذکر تو ہوسکتا ہے لیکن سفارت کاری!…. ویسے ہاتھ میں تسبیح رکھنا یقینا عمران خان نے طالبان سے سیکھا ہوگا۔وہ پچھلے چار دن سے امریکہ میں ہیں اور ابھی تک کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، اب تو ان کے دورے پر پاکستانیوں کا ہی نہیں بلکہ سعودیوں کاپیسہ بھی لگا ہوا ہے، وہ ابھی تک محض فوٹو سیشن ہی کروارہے ہیں، کشمیر کی صورت حال وہی ہے جو ان کے دورے سے قبل تھی بلکہ ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ کی وجہ سے کشمیر کی بات اگلی سے بھی چگلی ہوگئی ہے، دیکھئے اب کتنے عالمی لیڈر اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر سنتے ہیں، خاص طور پر کیاصدر ٹرمپ یہ تردد کریں گے؟ضرور پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کیخلاف مریم نواز کی اپیل پر ایف بی آر کو 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں