شدید علالت کے بعد ننھے پروفیسر حماد صافی گھر منتقل، آپریشن پر سوال اٹھادیا

پاکستان کے پہلے سُپرکڈ اور ننھے پروفیسر حماد صافی کا اسلام آباد کے اسپتال میں آپریشن ہوا لیکن حماد نے آپریشن اور ڈاکٹرز پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے پوری داستان سوشل میڈیا پر سامنے رکھ دی۔حماد صافی کو ملک کا سپر کڈ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ 11 برس کی عمر میں ہی موٹیویشنل اسپیکر کے طور پر ابھر کر آئے جن کا یوٹیوب چینل بھی ہے۔12 سالہ حماد کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کم عمر ترین پروفیسر ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں، اسی بناء پر وہ نجی و سرکاری جامعات، کالجوں اور اسکولز کے طلبہ کو لیکچرز بھی دیتے ہیں۔حماد صافی نے گزشتہ روز سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر ایک طویل پوسٹ شیئر کرتے ہوئے سب کو اپنی بیماری سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ’کچھ دن پہلے انہیں پیٹ میں شدید درد ہوا جس کے باعث والدین نے انہیں فوری طور پر الشفا انٹرنیشنل اسلام آباد میں منتقل کیا گیا لیکن ڈاکٹر نے انہیں معائنہ کرکے گھر واپس بھیج دیا تھا‘۔بعدازاں ’انہیں دوبارہ پیٹ کی شکایت محسوس ہوئی جس پر انہیں ہنگامی صورتحال پر دوبارہ  الشفا انٹرنیشنل اسلام آباد لے جایا گیا جہاں ان کا فوری طور پر اپینڈکس کا آپریشن کیا گیا‘۔مستقبل کے معمار حماد صافی نے اپنی پوسٹ میں آگاہ کیا کہ ’ان کا آنتوں کا آپریشن ساتھ خیریت سے ہوچکا ہے سب ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں‘۔اس کے علاوہ حماد صافی نے اپنی پوسٹ میں اسپتال کے ڈاکٹرز کو سوالیہ نشان بناتے ہوئے لکھا کہ غلط آپریشن یا غلط ٹیسٹ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں