سعودی ولی عہد نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا امکان مسترد کردیا

ریاض مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ چھیڑنے کے امریکی منصوبوں پر پانی پھر گیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا امکان مسترد کر دیا۔اپنے انٹرویو میں سعودی شہزادے نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو روکنے کیلئے عالمی اقدامات نہ کیے گئے تو تیل کی قیمتیں ناقابل تصور حد تک بڑھ جائیں گی۔سعودی ولی عہد نے امریکی ٹی وی سی بی ایس کو دیئے گئے انٹرویو میں کئی موضوعات پر کھل کر بات کی۔ جمال خشوگی کے قتل سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جمال خشوگی کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن بطور سربراہ مملکت وہ اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ یہ سعودی عرب نہیں بلکہ بوری دنیا کی توانائی انڈسٹری کے دل پر حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ تیل تنصیبات پر حملے کیساتھ ایران کا کوئی اسٹریٹجک مقصد وابستہ نہیں تھا بلکہ وہ اپنے آپ کو احمق ثابت کرنا چاہتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ ہوئی تو پوری دنیا پر اس کے تباہ کن اثرات پڑیں گےاور عالمی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔اگر دنیا نے ایران کو روکنے کیلئے موثر اقدامات نہ کئے تو کشیدگی میں مزید ضافہ ہوگا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو جائیں گی جتنا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کیخلاف فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی، کیونکہ سیاسی حل فوجی کارروائی سے بہت بہتر ہوا کرتا ہے۔محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کیساتھ نئی جوہری ڈیل کیلئے عالمی طاقتوں کے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔۔ یمن کی جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر ایران حوثیوں کی مدد کرنا بند کر دے تو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا آسان ہو جائے گا۔دوسری جانب سعودی آرامکو نے اپنی تنصیبات پر ہونے والے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی ہے، ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حملے میں جدید ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد خوفناک آگ نے چند ہی لمحوں میں ابقیق تنصیبات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں