سابق مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار

سماعت کے دوران نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ 2 لاکھ 28 ہزار ڈالر یومیہ ایل این جی نقصان ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس نقصان کو بھی بند کیوں نہیں کیا جا رہا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے دریافت کیا کہ کیا موجودہ حکومت کو اختیار نہیں ہے کہ گزشتہ حکومت کے معاہدے کو ختم کر دے؟ انہوں نے دریافت کیا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ایم ڈی کا کیا کردار تھا جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ نیب کراچی میں ایم ڈی پی ایس او کے خلاف انکوائری جاری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مفتاح اسماعیل کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی جس کے بعد پہلے سے ہائیکورٹ میں موجود نیب کی ٹیم نے انہیں گرفتار کرلیا۔گرفتاری کے بعد مفتاح اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کا مکمل احترام کرتا ہوں، مسلم لیگ ن کے ساتھ ہوں اور رہوں گا۔خیال رہے کہ 18 جولائی کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر عمران الحق کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے گئے تھے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ان کے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کیے تھے۔بعد ازاں نیب ٹیم نے ان کی تلاش میں کراچی میں ان کی سائٹ ایریا فیکٹری اور شارع فیصل کے دفتر سمیت مختلف مقامات پر چھاپے مارے تاہم نیب انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔اگلے روز مفتاح اسماعیل نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو منظور کرلی گئی تھی۔24 جولائی کو انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کرلیا اور کہا کہ ریفرنس دائر ہونے اور تفتیش مکمل ہونے تک گرفتاری سے روکا جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایل این جی کوٹہ کیس میں لگائے گئے الزمات بے بنیاد ہیں اور وہ کسی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں