حکومت گرانے کا خواب، جاگتی آنکھوں کا عذاب

مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو ابھی تک عبدالوحید کاکڑ فارمولے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کا گمان ہے کہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف چھڑی لے کر آئیں گے اور وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیج دیں گے۔ ایسے افراد کی حالت قابلِ رحم ہے، وہ ایسی امیدیں باندھ رہے ہیں جو موجودہ حالات میں دیوانے کی بڑ نظر آتی ہیں۔ ایسے خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں، جنہیں اب دیکھنا بھی معیوب قرار پا چکا ہے۔ اب ایسے لوگوں کو عقل داڑھ نکلنے کا انتظار کرنا چاہیے،جو کہتے ہیں کہ موجودہ مسائل کا حل مارشل لاء ہے یا پھر نئے انتخابات۔ یہ فارمولا اس وقت بھی بیان کیا گیا تھا،جب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف انتخابات میں دھاندلی پر تحریک چلائی گئی تھی اور اسے بعدازاں تحریک نظام مصطفےٰ میں تبدیل کر دیا گیا تھا، تب تو پہلی خواہش پوری ہو گئی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کرکے ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیا تھا، پھر اگلے آٹھ برس تک نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے والے گھروں میں بیٹھے رہے تھے، مگر جس طرح کہتے ہیں کہ مومن کو ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جا سکتا، اسی طرح بار بار ایسے عجوبے نہیں ہوتے۔ اب عمران خان کے خلاف آزادی مارچ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اکیلے مولانا فضل الرحمن کبھی ایک اور کبھی دوسرے شہر جا کر اپنے کارکنوں کا لہو گرمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی چندے کی پرچیوں پر انہوں نے تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے لفظ بھی کندہ کرا رکھے ہیں، تاکہ چندہ بھی یقینی ملے اور بوقتِ ضرورت اس آزادی مارچ کو تحریک ناموس رسالت بھی بنایا جا سکے، مگر کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔ کیا سارے کردار اسی طرح کام کریں گے، جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں انہوں نے کئے۔ کیا اپوزیشن کے پاس ایسے جید علماء ہیں،جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عبداللہ درخواستی، مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی دستیاب تھے۔کیا اکیلے مولانا فضل الرحمن میں اتنا دم خم ہے کہ پورے نظام کو اتھل پتھل کر سکیں۔کیا نواز شریف، آصف علی زرداری اور مریم نواز کی عدم موجودگی میں کوئی بڑی حکومت ہٹاؤ، تحریک چل سکتی ہے۔ کیا سیاسی جماعتوں نے شکست پہلے ہی سے تسلیم نہیں کر لی کہ تحریک کی باگ ڈور ایک مذہبی جماعت کے ہاتھوں میں دے دی ہے، کیونکہ اس کے پاس مدرسے کے بچوں کی طاقت موجود ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس طرح کوئی فرد واحد مدرسوں کو سیاست میں استعمال کرکے حکومت گرا سکتا ہے، اس طرح تو ایک نیا در کھل جائے گا اور مستقبل میں کوئی بھی مدرسے کے بچوں کو سڑکوں پر لا کر حکومت بدل دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں