حکومت کی عوام دوستی کا تاثر ریزہ ریزہ

مران خان اور ان کی حکومت کی انسان دوستی کا تاثر اس وقت مکمل طور پر ریزہ ریزہ ہو تا دکھا ئی دیا جب کئی اخبارات اور نیوز چینلز پر یہ خبر دیکھی کہ لاہور میں بدھ (18ستمبر(کے روز کینسر کے کئی مریض، جن میں خواتین اور بوڑھے افراد بھی شامل ہیں وہ پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کر نے پر مجبور ہوگئے۔کینسر جیسے موذی مرض سے لڑنے والے ان بے بس اور لا چار افراد کی مجبوری یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں کینسر کی مفت دوائیاں ہی بند کر دی ہیں۔احتجاج کرنے والے یہ مریض ما رکیٹ سے دوائیاں نہیں لے سکتے کیو نکہ ایک تو یہ دوائیاں ما رکیٹ میں طلب کے حساب سے پہلے ہی کم ہیں اور اگر کہیں سے مل بھی جاتی ہیں تو صرف ایک دوائی کے پتے کی قیمت 4، 4لاکھ روپے کی ہے۔ ان دوائیوں کی کمی کے باعث جن دکانداروں نے یہ دوائیاں رکھی ہوئی ہیں وہ ان کو بلیک میں بیچتے ہیں دوسرے الفاظ میں ایسے دوکاندار کینسر کے مریضوں کی بیماری سے بھی ناجائز فائدہ اٹھانا چا ہتے ہیں۔غر یب کو تو چھوڑیں آج کی مہنگائی کے دور میں کیا کوئی متوسط طبقے کا مریض بھی اتنی مہنگی دوائی لے سکتا ہے؟۔ ایسے میں سرکاری ہسپتالوں میں ملنے والی مفت ادویات کینسر کے مریضوں کے لئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں تھیں سرکاری ہسپتالوں میں جن مریضوں کو یہ دوائیاں ملتی رہی ہیں یہ سب رجسٹرڈ مریض تھے۔محکمہ صحت کے ایک عہدے دار کے مطابق پنجاب کی سابق حکومت نے کینسر کے کئی سو مریضوں کو رجسٹر کیا ہوا تھا اور اس رجسٹریشن کی بنیاد پر ان کو یہ ادویات مفت مل جاتی تھیں۔اس مقصد کے لئے خاص بجٹ مخصوص کئے گئے تھے۔ 2014ء میں اس وقت کی پنجاب حکومت نے سوئٹزر لینڈ کی ایک دوا ساز کمپنی کے ساتھ اس حوالے سے معاہدہ کیا اور یوں یہ دوائیاں ‘the Punjab CML Project’کے تحت دستیاب ہونا شروع ہوگئیں۔2018ء کے آغاز میں پنجاب حکومت نے ایک مرتبہ پھر اس معا ہدے کو مزید 5سال یعنی 2023ء تک کے لئے تو سیع دینا چا ہی۔2018ء کی نگران حکومت کے دوران چار ماہ کے لئے ان ا دویات کو منگوایا بھی گیا،مگر گزشتہ سال 2018ء کے آخر میں اس وقت مسئلہ پیدا ہو گیا جب ان ادویات کے لئے فنڈز روک دیئے گئے۔بدھ کے روز مال روڈ لاہور پر ہونے والے اس احتجاج میں شامل کینسر کے کئی مریضوں اور انکے لواحقین نے میڈیا کو بتا یا کہ سرکاری ہسپتالوں سے دوائی نہ ملنے کے باعث ان کی زندگی کو خطراک لا حق ہو چکے ہیں۔کئی بیٹوں اور بیٹیوں نے میڈیا کے نما ئندوں کو بتا یا کہ ان کے ماں، باپ اس موذی مرض کے باعث اپنے بستروں سے اٹھ نہیں پا رہے اور ان کی حالت روز، بروز بگڑتی جا رہی ہے کیونکہ گز شتہ دو ما ہ سے ان کو دوائی ہی نہیں مل رہی یوں یہ دوائی نہ ملنے سے ایک طرح کاا نسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں