حکومتی وزیر نے ایک بار پھر مولانا فضل الرحمان کو بات چیت کی پیشکش کردی

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا کوئی مسئلہ ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر کو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں، مولانا کا ایجنڈا واضح نہیں ہے کہ آزادی مارچ ہے کس چیز کا؟ وہ جا کر لائن آف کنٹرول پر دھرنا دیں، حکومت ان کا ساتھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز خود ہی کہا تھاکہ نہ کسی کو مجاز ٹھہرایا ہے نہ کسی کمیٹی کی ضرورت ہے جس طرح کی مولانا کی حکمت عملی ہوگی ویسی ہی حکومت کی ہوگی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں کہا تھا کہ کمیٹی کے قیام کی فی الحال ضرورت نہیں، جمعیت علمائے اسلام سے مذاکرات کا آپشن کھلا ہے، اگر کوئی خود بات کرنا چاہے تو دروازے بند نہیں ہیں۔اب وفاقی وزیر غلام سرور کا کہنا ہے کہ مو لانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے تو ایک لفظ کشمیر پر نہیں بولے، اب اگر دنیا کشمیر پر بات کررہی ہے تو مولانا اس کو خراب نہ کریں۔غلام سرور خان نے مزید کہا کہ فضل الرحمان کو کوئی مسئلہ ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جس کے بعد ملک میں سیاسی گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔آزادی مارچ کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے وفاقی و صوبائی وزراء اور جے یو آئی کے رہنماؤں کے درمیان تندوتیز بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سمیت کئی بڑے ناموں کو شکست ہوئی جس کے فوراً بعد جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا۔19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے۔اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں ملک کو مختلف بحرانوں سے دوچار کردیا گیا ہے، اس وقت پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے نتیجے میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال انتہائی ابتر ہے، معاشی بدحالی سے روس ٹکرے ہوگیا اور ہمیں ایسے ہی حالات کا سامنا ہے، ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے، ملک کا ہر طبقہ پریشانی میں مبتلا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کل تک ہم سوچ رہے تھے، سری نگر کیسے حاصل کرنا ہے؟ آج ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ مظفر آباد کیسے بچانا ہے؟ عمران کہتا تھا مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا، موجودہ حکمران کشمیر فروش ہیں اور ان لوگوں نے کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔سربراہ جے یو آئی نے الزام عائد کیا کہ ہم عالمی سازش کا شکار ہیں اور ہمارے حکمران اس کا حصہ ہیں، جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہا تو کشمیر کو کوئی نہیں بیچ سکا لیکن میرے جانے کے بعد کشمیر کا سودا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں اتفاق کیا ہے کہ سب اکٹھے اسلام آباد آئیں گے اور رہبر کمیٹی ایک ہفتے میں چارٹر آف ڈیمانڈ دے گی تاکہ جب اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو ہمارے پاس متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہو۔فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے لاک ڈاؤن میں عوام آئیں گے، انہیں کوئی نہیں اٹھا سکتا، ہمارے لوگ عیاشی کیلئے نہیں آئیں گے اور ہر سختی برداشت کرلیں گے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کھل کر مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا تاہم دونوں جماعتیں مولانا کی اخلاقی حمایت کررہی ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت دھرنے کی سیاست اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے کے خلاف ہے تاہم اگر کچھ تحفظات دور ہوجائیں تو ان کی پارٹی مولانا کے دھرنے میں شامل ہوسکتی ہے۔تاہم 8 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کے 27 اکتوبر کے آزادی مارچ میں بھر پور شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد 11 اکتوبر کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے بھی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں