“حقائق سامنے آگئے تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بدل کر رکھ دے گا، لوگوں کوپتہ چلے گا کہ۔۔۔” تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد ہونے پر اکبر ایس بابر بھی میدان میں آگئے

اسلام آباد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک ہونے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کردیں۔تحریک انصاف نے اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک ہونے کے خلاف 4 درخواستیں جمع کرائی تھیں جن پر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے فیصلہ سنایا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کرتے ہیں، اسکروٹنی کمیٹی اپنا کام جاری رکھے، پی ٹی آئی چودہ اکتوبر کواسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہو۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے باغی رہنما اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ الحمد اللہ آج بھی پی ٹی آئی کی چاروں درخواستوں کوالیکشن کمیشن نے مسترد کردیاہے، الیکشن کمیشن نےحکم جاری کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 14 اکتوبر کو دوبارہ ہو گا، پی ٹی آئی نے پہلے بھی درخواست دی کہ اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کو خفیہ رکھا جائے، پی ٹی آئی کے اعتراضات درخواستیں تاخیری حربے ہیں جو کیس سے بھاگنے کے لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے مجھے کیس سے الگ کرکے اپنے نتائج حاصل کر سکیں گے، کارروائی خفیہ رکھنے کا عمل سمجھ سے بالاتر ہے، حقائق سامنے آگئے تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بدل کر رکھ دے گا، لوگوں کوپتہ چلےگا اس فنڈنگ کے پیچھےکون ہے۔اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ میں اور عمران خان بات کرتے تھے جو غلط کام کرےگا دوسرا اس کے سامنے کھڑا ہوجائے گا، میں عمران خان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی ٹیم کبھی ڈلیور نہیں کر سکتی، یہ ٹیم پاکستان تحریک انصاف کی ہے ہی نہیں، عمران خان اپنے احتساب سے پانچ سال سے بھاگ رہے ہیں اور میں پانچ سال سے ان کا مقابلہ کررہا ہوں، آپ کبھی ہائی کورٹ بھاگتے ہیں ، کبھی میرے خلاف مہم چلاتے ہیں، ہم تمام ثبوت الیکشن کمیشن کے سامنے رکھ چکے ہیں، کیس سےمتعلق اسٹیٹ بینک نے 23 اکاونٹ پیش کر دیے ہیں، 14 اکتوبر کے بعد اسکروٹنی کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرے اور جلد اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے الیکشن میں بہت دھاندلی ہوئی، نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں