جنگ کا مستقبل

گلے روز میں کسی انگریزی معاصر میں ایک آرٹیکل دیکھ رہا تھا جس کا عنوان تھا…… The Future of War…… کالم نویس کا نام پی ڈبلیو سنگر (Singer) تھا۔ اس کا استدلال تھا کہ جنگ کا مستقبل اب یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے تیل کے دو کنوؤں پر جو ڈرون حملہ ہوا ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو سعودی عرب کا متقبل واقعی غیر یقینی حصاروں میں گھرا ہوا ہے۔ لیکن اس کے بعد سنگر کا یہ فقرہ بہت معنی خیز تھا:”ایک حقیقت جو (اس سانحے سے) روشن ہو کر سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ سعودیوں سے زیادہ امریکی غیر یقینی مستقبل میں گھرے ہوئے ہیں اس لئے امریکہ کو سعودی عرب سے زیادہ بہتر طور پر (جنگ کے لئے)تیار رہنا چاہیے“۔یہ موضوع (جنگ کا مستقبل) ایک عرصے سے ملٹری ہسٹری کا ایک اہم موضوع شمار ہو رہا ہے۔20ویں صدی کی پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر چونکہ ٹینک، طیارے اور آبدوزیں افواج کے زیرِ استعمال آ چکی تھیں اس لئے دنیا بھر کی عسکری تدریسی درسگاہوں میں یہ موضوع پڑھایا جانے لگا۔ اس گریٹ وار کے آغاز پر یہ تینوں بھاری ہتھیار چونکہ متعارف نہیں ہوئے تھے اور اس جنگ کے چار برسوں میں یہ اسلحہ جات کسی نہ کسی پیمانے پر فریقینِ جنگ نے استعمال کئے، اس لئے ان کے فوائد و نقصانات پر بحث ہونے لگی اور جنگ کا مستقبل تاریک کی بجائے ”روشن“ نظر آنے لگا۔اس کے بعد بیس برس تک (1919ء تا 1939ء) امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس کی ملٹری اکیڈیمیوں میں اس ضمن میں جو تحقیق و تمحیص ہوئی وہ کتابِ جنگ و جدل کا ایک اہم باب ہے۔ انہی مباحث کے نتیجے میں ان تینوں سلاحِ جنگ (طیاروں، ٹینکوں اور آبدوزوں) میں زبردست ڈویلپمنٹ ہوئی اور جب یکم ستمبر 1939ء کو دوسری جنگ شروع ہوئی تو کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہ جنگ،گریٹ وار سے گریٹر (Greater) ہو گی یا سمالر (Smaller)…… اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ جنگ، گریٹ وار سے آگے نکل گئی…… یہ جنگ ہر لحاظ سے آگے تھی ……اس کا دورانیہ، متحارب فریقوں کی افواج کی تعداد، بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کی تعداد و اقسام اور اس میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ 1914ء تا 1918ء والی گریٹ وار اس کے مقابلے میں کہیں سمال تھی۔ چنانچہ ملٹری ہسٹری کے مصنفین نے اسے Greaterوار کہنے کی بجائے اس کا نام دوسری عالمی جنگ رکھ دیا اور گریٹ وار کا نام پہلی عالمی جنگ قرار پایا…… تب سے اب تک یہی نام چلے آتے ہیں …… کہا جاتا ہے کہ اب تیسری عالمی جنگ اگر ہوئی تو وہ دنیا کی آخری جنگ ہو گی!لیکن 74برس ہو چکے، تیسری عالمی جنگ کے آثار بار بار عالمی افق پر نظر آنے کے باوجود دنیا اس جنگ سے ہنوز بچی ہوئی ہے۔ جن دو جوہری بموں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پرقیامت ڈھا دی تھی وہ آج دوہزار سے زیادہ تعداد میں کرۂ ارض پر موجود ہیں لیکن قیامتِ صغریٰ یا کبریٰ کا ظہور فی الحال پردۂ اخفا میں ہے……اور دو ہزار موعودہ قیامتیں ابھی برپا نہیں ہوئیں۔اس دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی عسکری تدریسی درسگاہوں میں وہی سبق پھر پڑھایا جانے لگا اور وہی سوال ایک بار پھر اٹھنے لگا کہ ”جنگ و جدل کا مستقبل“ اب کیا ہو گا۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جدید ترین ہتھیار یعنی صرف میزائل ہی زیرِ استعمال نہ تھے،باقی ہتھیار بھی اتنی ہی تعداد میں اور اسی سکیل پر استعمال ہوئے اور جنگ کا مستبقل بحث و مباحثہ کے پروفیشنل دبستانوں میں بڑی شد و مد سے زیر بحث لایا جانے لگا…… آج ایک بار پھر اس وجہ سے اس موضوع کو ایک نئی زندگی ملی ہے کہ ایک بالکل نیا ہتھیار وجود میں آ چکا ہے…… اس کا نام ڈرون ہے!……یہ ڈرون کیا ہے؟…… یہ آفتابِ قوتِ فضائی کا گویا نصف النہار ہے۔ اس کی امکانی قوت (Potential)پوری طرح فی الحال سامنے نہیں آئی۔ سعودی آئل فیلڈز پر حالیہ حملہ اس کا محض ابتدائیہ ہے۔ اگر اس ایک حملے سے سعودی عرب کے تیل کی پیداواری گنجائش کم ہو کر آدھی رہ گئی ہے تو دنیا کی سپرپاور کو اس ڈرون سے لرزاں و ترساں رہنا پڑے گا۔ امریکہ کے دیوقامت طیارہ برداروں کی آدھی کھیپ بحرالکاہل میں ہے اور آدھی بحراوقیانوس میں صف آراء ہے۔ اس کے ایک دو طیارہ بردار، بحیرۂ روم میں بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان کے لئے یہ ڈرون خطرے کی بلند آہنگ گھنٹی ہے۔ اسی طرح جوہری وار ہیڈز کے ذخائر دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، کروڈ آئل کو صاف کرنے والی ریفائنریاں روئے زمین پر جہاں بھی ہوں اور بارودی ذخائر کے بڑے بڑے گودام جہاں بھی ہوں، وہ تمام کے تمام ڈرونوں کی زد پر آ چکے ہیں۔سعودی عرب کا دفاعی بجٹ امریکہ اور روس کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا دفاعی بجٹ ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں چین سے پری ڈیٹر (Predator) ٹائپ کے دیوہیکل ڈرونوں کا شکار کرنے کے لئے جو ائر ڈیفنس سسٹم خریدے تھے وہ ابقیق اور اَل خریث کی آئل فیلڈز کا فضائی دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ دس دن قبل ہفتے کے روز سعودی آئل فیلڈز پر حملہ ہوتا ہے اور سوموار کو پوٹن اور حسن روحانی انقرہ پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں صدر پوٹن سعودیوں کو کہتے ہیں کہ ہمارا فضائی دفاعی نظام (ایس۔400) خریدو تاکہ آئندہ ایسے حملوں سے بچ سکو۔ امریکہ کی پیٹریاٹ بیٹریاں تو سعودیوں اور امارات کے پاس پہلے سے موجود ہیں لیکن وہ اس ڈرون حملے کو نہیں روک سکیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں ایس۔400 یا ایس۔500 سسٹم بھی ڈرونوں کی ترکتازیوں کے سامنے شائد بے بس ہو جائے۔…… مجھے لگتا ہے ایسا ہونے کے دن زیادہ دور نہیں۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا، امریکہ اور روس دو عالمی سپرپاورز تھیں۔ ان کے ہاں بین البراعظمی میزائلوں، جوہری آبدوزوں،سٹرٹیجک بمباروں اور طیارہ برادروں کی کمی نہ تھی۔ دنیا کی دوسری درمیانے درجے کی طاقتیں، ان دونوں سپرپاورز سے گویا لرزہ براندام رہا کرتی تھیں۔ لیکن جب سے چین نے پَر پُرزے نکالنے شروع کئے ہیں، بھاری عسکری اسلحہ جات کی ڈیماکرائٹائزیشن (Democratization) ہونے لگی ہے۔ آج 75ممالک کے پاس کروز میزائل موجود ہیں اور دو درجن کے پاس ایسے مسلح ڈرون ہیں جو پری ڈیٹر اور گلوبل ہاک کی برانڈز کے ہم پلہ ہیں۔ اور یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اور اس سے بھی خوفناک تر بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار صرف ریاستوں کے پاس نہیں بلکہ نان سٹیٹ گروپوں کے ہاں بھی بار پا چکے ہیں۔ یہ نان سٹیٹ گروپ نہ صرف یہ کہ ان کوآپریٹ کر سکتے ہیں بلکہ خود پروڈیوس کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے جا رہے ہیں …… امریکہ کو ’داد‘ دیجئے کہ اسی نے پہلے پہل یہ جِن بوتل سے نکالا تھا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ حزب اللہ نے 2004ء ہی میں اسرائیل جیسے ترقی یافتہ ملک کے خلاف ڈرون پروازیں شروع کر دی تھیں۔ اسی طرح ISIS نے عراق اور شام پر سینکڑوں کی تعداد میں ڈرون استعمال کئے لیکن ان میں بیشتر غیر مسلح تھے اور ان کا رول محض ریکی اور سروے لینس تھا۔ لیکن اسی دولتِ اسلامی (ISIS) نے 2016ء میں سب سے پہلے امریکہ کے خلاف مسلح ڈرون کا حملہ کیا۔ ISIS کا آغاز تو آپ سب جانتے ہیں کہ سب سے پہلے امریکہ کی پشت پناہی میں کردستان سے شروع ہوا تھا۔ وہاں سے عراق اور پھر شام میں آیا…… اور پھر جب بساط الٹی تو یہی ISIS، امریکہ کے خلاف شام میں بھی آئی اور افغانستان میں بھی قدم رنجہ فرمایا۔آپ کو یاد ہو گا 2015ء میں سعودی عرب اور امارات کی کولیشن نے یمن میں حوثی قبائل پر فضائی حملوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ لیکن ان حملوں کے جواب میں انہی باغی حوثیوں نے ایران کی مدد سے سعودی عرب اور امارات پر کئی بار ڈرون حملے کئے۔ ان حملوں کی خبریں ہم گزشتہ برسوں میں کئی بار دیکھ، سن اور پڑھ چکے ہیں۔ جیسا کہ میں نے سطور بالا میں عرض کیا ہے یہ مسلح ڈرون فضائی قوت کا نقطہ ء معراج قرار دیئے جا رہے ہیں۔ جو کچھ پائلٹ والے طیارے (لڑاکا اور بمبار وغیرہ) کر سکتے ہیں، وہی کچھ ڈرون بھی کر سکتے ہیں۔ ڈرون کاک پٹ میں انسانی پائلٹ کی غیر موجودگی،عصرِ حاضر کی ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے اور یہ شاہکار جنگ کے ایک نئے مستقبل کی خبر دے رہا ہے(نوید نہ سہی!)
اب وہ زمانہ گزرتا جا رہا ہے کہ صرف پیسے سے ہربڑی چیز خریدی جا سکتی تھی۔ سعودی عرب عشروں سے اربوں ڈالر اپنے دفاعی بجٹ پر صرف کر رہا ہے (اور کچھ یہی حال دوسرے خلیجی ممالک کا بھی ہے جن کو GCC کہا جاتا ہے) لیکن ان عرب امیرزادوں کو کچھ معلوم نہیں کہ ٹیکنالوجی کا مستقبل کیا ہے……کاروبار ہو یا جنگ، ذہین (اور فطین) مشینیں، انسانوں کی جگہ لے رہی ہیں۔ اب ننھے ننھے روبوٹ سولجرز، افواجِ قاہرہ کا بدل بنتے جا رہے ہیں۔ اب کوئی ہی دن جاتا ہے کہ میدانِ جنگ، انسانی لشکروں سے خالی ہو جائیں گے اور ان کی جگہ ڈرون ٹینک، ڈرون آبدوزیں، ڈرون توپیں اور ڈرون گاڑیاں لے لیں گی بالکل اسی طرح جیسے یہ ڈرون طیارے لے چکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں میدانِ جنگ بظاہر سنسان ہو جائے گا اور صرف جنگی مشینیں ہی آپس میں گتھم گتھا ہو کر جنگ کا فیصلہ کر دیا کریں گی۔ پوٹن کے ایس۔400اور ایس۔500ائر ڈیفنس سسٹم مشینی روبوٹوں سے آپریٹ ہو کر مشینی روبوٹوں (ڈرونوں) ہی کا مقابلہ کیا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں