جدوجہد کی تاریخ……نوابزادہ نصراللہ خان

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کرفیو لگاکر 80لاکھ کے قریب مسلمانوں پر زندہ رہنا مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے موقع پر ایک ایسے شخص کی یاد آرہی ہے، جس نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے 1993ء سے لے کر 1996ء تک یورپ اورOICمیں کشمیر کے تنازعہ کو بھر پور انداز میں پیش کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم نے OICکانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو UNقرار دادوں کے مطابق حل کرانے کی قرار داد منظور کروائی۔ UK کی لیبر پارٹی کے منشور میں کشمیر کی آزادی کو حصہ بنایا۔ 26 ستمبر2003ء کو بحالی جمہوریت کی جدوجہد میں مصروف بابائے جمہوریت اور سینئر سیاست دان اس دُنیا سے رخصت ہو گئے۔آج جب ہم نوابزادہ نصراللہ خان کی برسی منا رہے ہیں تو کشمیر میں آگ جل رہی ہے اور بھارت خون سے کھیل رہا ہے توہمیں کشمیر کی آزادی کے لئے ان کی جدوجہد اوراشعار یاد آرہے ہیں۔ ایک طرف ان کی زندگی کا مشن جمہوریت کو بحال کر انا تھا تو دوسری طرف کشمیر کی آزادی ان کی جدوجہد میں شامل تھی۔ کمزور جمہوریت کو مضبوط آمریت سے بہتر قرار دینے والے نوابزادہ نصراللہ خان نے تحریک پاکستان کی جدوجہد سے لے کر جمہوریت کی بحالی تک بھر پور اور نمایاں رول ادا کیا۔ وہ ہر تحریک کا ہراول دستہ رہے۔ جنرل ایوب خان کی آمریت کو چیلنج کیا تو جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کی جمہوریت کی جدوجہد کی بدولت وہ آج بھی لوگوں کے دِلوں میں بستے ہیں۔ وہ جمہوریت کو ملکی ترقی کا ضامن تصور کرتے تھے۔ معاشی مسائل کا حل بھی جمہوری نظام میں دیکھتے تھے۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ ان کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ کہتے تھے کہ جمہوریت کے ساتھ کوئی لاحقہ نہیں ہوتا جمہوریت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اور تیسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔
نوابزادہ نصراللہ خان 1918ء کو خان گڑھ میں پیدا ہوئے 1928ء سے لے کر1933ء تک ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی۔ برطانوی راج کی مخالفت کی اور23مارچ 1940ء کو قرار پاکستان میں شریک ہوئے۔1952ء، 1962ء، 1970ء،1977ء،1988ء،1993ء،1997ء اور 2002ء کے انتخابات میں حصہ لیا۔ زندگی میں بے شمار قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں، جبکہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پانچ سال قید رہے۔ 1998ء کے صدارتی انتخاب میں غلام اسحاق خان کا مقابلہ کیا۔ پاکستان بننے سے لے کر زندگی کے آخری دن تک تمام جمہوری تحریکوں کا حصہ رہے جبکہ حکمرانوں کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات میں شریک ہوتے رہے۔ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ پوری زندگی لاہور کے چھوٹے سے گھر میں گزار دی۔ بڑے بڑے حکمرانوں نے اس چھوٹے سے کرائے کے گھر کی یاترا کی۔ضرور پڑھیں: “نماز ادا کرنے کے دوران اچانک زمین ہلنے لگی، اس سے . . .” آزاد کشمیر میں زلزلہ، بزرگ والدہ نے نئی مثال قائم کردیآمریت کے خلاف اتحاد بنانے کا فن جانتے تھے۔ ان کی زندگی کے بعد آج تک کوئی سیاسی اتحاد نہیں بن سکا۔ ان کی زندگی کا آخری اتحاد بھی انتہائی شاندار تھا، جس میں انہوں نے دو دو دفعہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر رہنے والے اور ایک دوسرے کے شدید مخالفین کو مشرف آمریت کے خلاف اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ زندگی کے آخری دنوں میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے مذاکرات کے لیے لندن، دبئی اور جدہ کا دورہ کیا۔ان کو حقے کا بڑا شوق تھا۔ لندن کے ہوٹل میں بھی حقہ ساتھ رکھا۔ ایک دفعہ تو ہوٹل کے سائرن بھی بج گئے۔ نوابزادہ نصراللہ کا تمام طبقوں میں بے حد احترام تھا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی رحلت سے ملک اتفاق رائے پیدا کرنے والے رہنما سے محروم ہو گیا۔ پاکستان ہمیشہ بحرانوں کا شکار رہا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان بننے سے لے کر آج تک چل رہا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ضرور پڑھیں: لاہورہائیکورٹ،قتل کیس کا ملزم درخواست ضمانت منسوخ ہونے پر احاطہ عدالت سے گرفتارپاکستان نے کشمیری بھائیوں کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں اسی طرح دہشت گردی کے بحران کا ہم مقابلہ کر رہے ہیں۔ آمریت کے ساتھ ساتھ معاشی بحران کا ہم شکار ہیں۔ ان تمام بحرانوں کا مقابلہ قومی اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ کوئی ایک ایسا لیڈر نہیں جو ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے پوری قوم کو اکٹھا کر سکے اور قوم کو ایک آواز دے سکے۔ آج نوابزادہ نصراللہ خان کویاد رکھنے اور خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جائے، جس میں اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کی آزادی ہواور احتسابی عمل پاک صاف اور شفاف ہو۔ یہی تو ان کاخواب تھا اور یہی ان کی جدوجہد۔
ان کی زندگی ایک تاریخ تھی:
ضرور پڑھیں: مریم نواز کیلئے جیل میں کیا کیا چیزیں پہنچا دی گئیں ؟ پتا چل گیا
٭…… کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کی تاریخ۔
٭ ……کرپشن کے خلاف نبرد آزما ہونے کی تاریخ۔
ضرور پڑھیں: زلزلے سے دراصل کتنا نقصان ہوا ؟ اعدادو شمار سامنے آ گئے
٭ ……بڑے بڑے آمروں کو جھکانے کی تاریخ۔
٭ ……قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی تاریخ۔
ضرور پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کیخلاف مریم نواز کی اپیل پر ایف بی آر کو 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم
٭ ……مذاکرات کرنے کی تاریخ۔
٭ ……جمہوریت کے لئے آمروں کے ساتھ لڑنے کی تاریخ۔
ضرور پڑھیں: الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سے متعلق کیس،سپریم کورٹ کا ارکان کو تقرری سے متعلق جواب سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرانے کا حکم
٭ ……سیاسی اتحاد بنناے کی تاریخ۔
٭ ……رواداری کی اعلیٰ روایات قائم کرنے کی تاریخ۔
ضرور پڑھیں: سپریم کورٹ نے فراڈکیس کے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی
٭ ……دو کمرے میں زندگی گزارنے کی تاریخ۔
٭ ……اصولوں پر قائم رہنے کی تاریخ۔
ضرور پڑھیں: نیب ٹیم کا لیاقت قائم خانی کی دوسری اہلیہ کے گھر پر چھاپہ،اہم دستاویزات حاصل کرلیں
آئیے قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خواب کی تکمیل کے لئے نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی ”تاریخ“ کو مشعل ِ راہ بنائیں اور قومی اتفاق رائے پیدا کر کے ملک کو مضبوط بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں