تْو کی جانڑے یار اَمیرا!

کبھی اِس بھرم پر مست قلندر رہا کرتے کہ علم و اخلاق ہی انسان کا اساسی وصف ہیں اور اس کے بغیر انسان دراصل حیوان کے مترادف ہے مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا علم و حکمت ایک اضافی تعیش معلوم ہونے لگا اور پھر آج نتائج عین جوانی کے علمی تجسس سے بالکل برعکس سامنے آ چکے ہیں یوں تو زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے مختلف سے مختلف تر نتائج انسان کے تجربات کا ماحصل رہتے ہیں مگر کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جن کا دکھ انسان کو ہر لحاظ سے مضمحل کر دیتا ہے جیسے کہ روٹی کا دکھ، ہم جس ریاست میں اتفاق سے نمودار ہوئے ہیں زمانہِ شعور سے لے کر اب تک عوام کو جس اذیت میں مبتلا دیکھا وہ دراصل فکرِ معاش کی اذیت ہے ہمارے وقتوں میں تو سب سے بڑی عیاشی گھی چپڑی روٹی کی بلا مشقت دستیابی ہوا کرتی اور وہ گھر بڑا معتبر گھر سمجھا جاتا جہاں گندم کی روٹی اور دیسی گھی ایک ساتھ موجود ہوتا،
ضرور پڑھیں: وزارت قانون نے ججز کی ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے سے متعلق نجی بل پر غور شروع کردیا
یہ شور ایک طرف کہ دنیا صنعتی و تکنیکی ترقی کی اوج پر پہنچ گئی ہمیں تو آج بھی اپنے آس پاس وہی فاقہ کشی وہی محرومی وہی لاچاری نظر آ رہی ہے گاؤں کا رخ کرتا ہوں تو بچے سے لے کر بوڑھے تک سبھی جان توڑ مشقت میں مستغرق نظر آتے ہیں شہر میں گھومتا ہوں تو یہ دکھ مزید گہرا ہو جاتا ہے جب غریب طبقہ کے افراد کو ایلیٹ کلاس کی چاکری کرتے دیکھتا ہوں، گزشتہ دنوں بلو ایریا میں ایک ملازمہ پر نظر پڑی جو اپنی مالکہ کو مسلسل یہ کہے جا رہی تھی کہ بی بی جی مجھے اجازت دیں میں نے جا کے کھانا بھی بنانا ہے میرے بچے بھوکے ہوں گے مالکہ نے ڈپٹ کے کہا کہ کلموہی سلو کو جا کے چاکلیٹ لے دے پھر رکشہ لے کر دفع ہو جانا، ملازمہ اور مالکہ کا یہ مکالمہ سن کر مجھے اپنے مفلوک الحال سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کا یہ بند یاد آ گیا:
اْنہاں دے بال ساری رات روندن بھْک توں سْمدے نہیںضرور پڑھیں: حب،سنٹرل جیل گڈانی میں خواتین قیدیوں کے تشدد سے لیڈی کانسٹیبل قتلجنہاں دی کئی دے بالاں کوں کھیڈیندیاں شام تھی ویندیبھاری بھرکم فلسفے بیان کرنا غرباء کے حقوق کے لئے نت نئی تنظیمیں بنانا کبھی مارکس کو کوٹ کرنا تو کبھی مقدّس واقعات سنا کر بعد از مرگ ایک پْرآسائش زندگی کی خوشخبریاں سنانا نہایت آسان کام ہیں مگر غربت و مسکنت کا جڑ سے خاتمہ کرنا کبھی ہمارا حقیقی مطمح نظر رہا ہی نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے مقام پر کھڑا ہو کر ہی سوچتا ہے ایک صاحبِ ثروت کو اس اذیت ناک کیفیت کا ادراک کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک لاچار نہایت قلیل آمدنی میں کیسے اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہے:
ضرور پڑھیں: پشاور میں وزیراعظم کے کزن نوشیروان برکی پر انڈے پھینکنا ڈاکٹر کو مہنگا پڑ گیا، سفارش کردی گئیتْو کی جانڑے یار اَمیراروٹی بندہ کھا جاندی اِیضرور پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست پر سماعت آج ہو گیانسانی حقوق کی تنظیم بنا کر ایک پْرآسائش زندگی گزارنے والا دانشور افلاس کے ماروں پر محض اپنی آسائش کی بقاء کا خواہش مند ہی رہتا ہے نہیں تو کب کا غربت کا قلع قمع ہو جاتا۔آج دانشور ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دفاع ہے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ قیامِ خلافت ہے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ مسلم نشاۃِ ثانیہ ہے جبکہ کوئی بھول کر بھی یہ الفاظ منہ سے نہیں نکالتا کہ اس قوم کا سب سے بڑا روگ غربت و مسکنت ہے بے بسی اور بیماری ہے ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم ایک معمولی سے وائرس پر بھی قابو نہیں پا سکتے اس جدید ترین دور میں بھی ہمارے آبائی گاؤں میں کسی کو مچھر کاٹ لے تو خون ٹیسٹ کرنے کی سہولت تک موجود نہیں ہے جبکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی شاندار عمارت موجود ہے پچاس ہزار آبادی والے علاقے میں سرکاری سطح پر کوئی ایک بھی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے ڈلیوری کیسز یا ایمرجنسی کی صورت میں ڈیڑھ گھنٹے کا سفر کرکے شہر جانا پڑتا ہے اور یہ تو محض میرا اپنا علاقہ ہے اس طرح کے کئی علاقے خیبر پختونخواہ، بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں موجود ہیں جہاں آج بھی انتہائی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ضرور پڑھیں: سعودی عرب میں دو پاکستانیوں کے سر قلم، انتہائی افسوسناک خبرآگئی
خدارا عوام کے حال پر رحم کیا جائے جس ریاست میں عوام روٹی اور صحت جیسی انتہائی بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہوں وہاں عالمی برادری کے سامنے شیخیاں بکھیرنا مستند حماقت کے سوا کچھ نہیں ہمیں اپنے مسائل حل کرنا چاہئیں نہ کہ اْن مسائل میں پڑنا چاہئے جن کی براہِ راست ذمہ داری سرے سے ہم پر عائد ہی نہیں ہوتی ہاں اگر ہم اس قدر خوشحال اور طاقتور بن چکے ہوں کہ ہم اپنے اندرونی مسائل چٹکیوں میں حل کر لیتے ہوں تو پھر بے شک ہم سیادتِ عالم کو اپنی ذمہ داری بنا سکتے ہیں اس وقت ریاست کے سامنے جو دو عفریت سینہ تان کر کھڑے ہیں وہ معیشت اور صحت ہے سرمایہ دار بپھرے ہوئے اِدھر اْدھر بھاگ رہے ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں چھلنی ہو کر کراہ رہا ہے تیل، بجلی، گیس، اشیائے خورد و نوش اور ہر قسم کی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کو چت لٹا دیا ہے علاوہ ازیں سیاسی دھماچوکڑی کا شو تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا پھر روڈ بلاک، ٹریفک جام، روزمرہ کے امور میں رکاوٹ کا عذاب تو ہمارا مقدر بن جائے گا، ایسے حالات میں غیر ضروری مسائل کو چھیڑ کر صرف اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے پہلو تہی مجرمانہ غفلت کے سوا کچھ نہیں ہے ایک قدیم سیاسی حکمتِ عملی ہے کہ جب حقیقی مسائل درپیش ہوں اور اْن کے خاطر خواہ حل پر دسترس نہ ہو تو پھر مصنوعی مسائل پیدا کر دو تاکہ عوام کا رخ اْس جانب ہو جائے جہاں وہ اپنے حقیقی مسائل بھلا کر مصنوعی مسائل کے پیچھے لگ جائیں یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی کو شدید بخار ہو تو بجائے اْس کا علاج کرنے کے اْسے باور کرا دو کہ تم عنقریب مرنے والے ہو اور تمہاری موت اب اٹل ہے تو وہ بیچارہ جھٹ سے شدید بخار کو غنیمت جان کر موت سے نجات حاصل کرنے کے لئے زندگی کی بھیک مانگنا شروع کر دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں