بھارت کا جوہری استعداد میں اضافہ چہ معنی؟

تخفیف اسلحے سے متعلق چند جوہری طاقتوں کا دوہرا معیارسمجھ سے بالاتر ہے۔ اسی سبب ہمارے پڑوسی ملک کا ایٹمی صلاحیت میں اضافہ جنوبی ایشیا کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ جوہری تجربوں پر دوطرفہ پابندی پر آمادہ ہے جس پر خود بھارت کی جانب سے آمادگی کا اظہار کیا گیا تھا۔ تخفیف اسلحہ کا عالمی ایجنڈا ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملکوں کی وجہ سے نامکمل ہے اس کی وجہ کچھ ریاستیں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تبلیغ کر رہی ہیں کچھ ریاستیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں بے پناہ اضافہ کر رہی ہیں۔ پاکستان کو برابری کی بنیاد پر نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت ملنی چاہیے۔ امریکا اور بھارت میں جوہری معاہدہ خطے میں اسلحے کی دوڑ کا باعث بنا۔ معاہدے سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بگڑا اور اب بھارت کا جوہری ہتھیاروں میں مزید اضافہ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ضرور پڑھیں: جمال بکر البغیور کی خالد مجید کو پاکستان قونصل جنرل بننے پر مبارکبادامریکی تھینک ٹینک ا نسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی نے انکشاف کیا ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت اپنی جوہری طاقت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ میسور کے قریب گیس سنٹری فیوج پلانٹ کی تعمیر مکمل کر چکا ہے جس سے یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں دو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کیلئے ضروری آلات بین الاقوامی بازار سے غیر قانونی طریقے سے خریدے گئے۔ بھارت نے ابھی تک جوہری عدم توسیع کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے اور اسی لئے وہ اپنے ایٹمی ری ایکٹر کا بین الاقوامی معائنہ کروانے کا پابند بھی نہیں ہے۔
بھارت نے2010 ء میں میسور کے پاس اپنا دوسرا سنٹری فیوج پلانٹ بنانا شروع کیا اور اپریل میں سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پلانٹ میں کام شروع ہو چکا ہے۔ امریکی جوہرے ادارے کے مطابق دنیا بھر میں جوہری مواد کے عدم تحفظ کی فہرست میں 32 ممالک شامل ہیں جن میں بھارت، چین، شمالی کوریا اور اسرائیل کے جوہری مواد سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ جوہری مواد کے عدم تحفظ کے حوالے سے خصوصاً بھارت سرفہرست ہے جو دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کر سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام آغاز سے ہی عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔
ضرور پڑھیں: “نماز ادا کرنے کے دوران اچانک زمین ہلنے لگی، اس سے . . .” آزاد کشمیر میں زلزلہ، بزرگ والدہ نے نئی مثال قائم کردیبھارت کی ایٹمی تنصیبات سے اب تک متعدد بار جوہری مواد چرایا جا چکا ہے۔ بھارت میں انڈر ورلڈ اتنا مضبوط ہے کہ سیکیورٹی ادارے بھی اس کے سامنے بے بس ہیں۔ جب وہ چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں چوری کر لیتے ہیں یا سائنسدانوں کو اغوا یا قتل کر دیتے ہیں۔ دسمبر 2006ء میں ممبئی کے نواح میں قائم ایٹمی ریسرچ سنٹر سے ایک کنٹینر ایٹمی اسلحہ میں استعمال ہونے والے پرزے لے کر روانہ ہوا اور غائب ہو گیا۔ تاحال اس چوری کا پتہ نہیں چلایا جا سکا اور بھارت یہ بھی بتانے کو تیار نہیں کہ اس کنٹینر میں کیا کچھ تھا۔ ان کے علاوہ 1984ء سے لے کر اب تک بھارت میں یورینیم کی چوری کے 152 کیس رجسٹر کرائے جا چکے ہیں۔ جس کی پوری دنیا میں اور کوئی مثال نہیں۔
یہ بھارت ہی ہے جس نے 1974ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کر کے جنوبی ایشیاء میں اپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے پہلا قدم اٹھایا تھا اور یہ بھی بھارت ہی تھا جس نے 1998ء میں پوکھراں کے مقام پر پے در پے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو جوابی ایٹمی اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب ان کے ہی سائنسدانوں نے ان دھماکوں کا پول کھول دیا ہے کہ 13 مئی 1998ء کو پوکھران میں کئے جانے والے بھارتی ایٹمی دھماکے اور ان پر کئے جانے والے تجربات ناکام رہے۔ یہ صرف پاکستان کو ڈرانے دھمکانے کیلئے کئے گئے تھے۔ضرور پڑھیں: لاہورہائیکورٹ،قتل کیس کا ملزم درخواست ضمانت منسوخ ہونے پر احاطہ عدالت سے گرفتاربھارتی سائنسدان کا کہنا ہے کہ ایٹمی تجربات کے بعد جتنی مقدار میں ایٹمی پیداوار کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ اس سے کہیں کم تھی۔ پوکھران میں کئے جانے والے دو دھماکوں کے ایٹمی سگنلز کہیں بھی موصول نہیں ہوئے۔ وہ ایٹمی دھماکے ہی نہیں تھے اگر ایٹمی دھماکے تھے تو ناکام تھے۔ بھارت دراصل ہائیڈروجن بم کے تجربے میں ناکام رہا تھااس نے بڑی کوشش کی تھی کہ ہائیڈروجن بم بنا لے مگر اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت کے ایٹمی ری ایکٹرز عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ کہیں تو ان کی ساخت میں گڑبڑ ہے تو کہیں ان کا وجود گردو پیش کی آبادی کیلئے خطرہ ہے۔ اسی لئے بھارتی جوہری ری ایکٹروں سے تابکار مادوں کا اخراج عام بات ہے لہذا بین الاقوامی اداروں کو چاہئے کہ بھارتی ایٹمی پلانٹ بار ے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور اس سے چشم پوشی نہ کریں، کیونکہ ان کی عدم تحفظگی سے صرف بھارت ہیں پورے خطے کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ آج کل جو پاک بھارت کشیدگی کے حالات ہیں ان میں بھارت کا جوہری استعداد میں اضافہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ضرور پڑھیں: مریم نواز کیلئے جیل میں کیا کیا چیزیں پہنچا دی گئیں ؟ پتا چل گیاایک تو بھارتی جوہری پروگرام نقائص سے بھرپور ہے اور پھر اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کیلئے تربیت یافتہ عملہ بھی نہیں ہے، اس صورتحال میں کہیں ایسا نہ ہو کہ بھارتی جوہری بموں کے نرغے میں خود بھارتی ہی آجائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں