’بھارت نے ریاستی دہشتگردی کو چھپایا وزیراعظم پاکستان نے اسے اجاگر کیا‘

اقوام متحدہ کی 74 ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے بعد پاکستانی مشن کے سفارتکار ذوالقرنین چھینہ نے جواب الجواب پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے بھارت کا سفاک چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے سفارتکار ذوالقرنین چھینہ نے جواب الجواب میں مؤقف اختیار کیا کہ بھارت 30 سال سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے، کشمیریوں کوبولنےکی آزادی تک نہیں ہے۔جواب الجواب میں سفارتکار ذوالقرنین چھینہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کےعوام کو بولنے کی اجازت دینے سے خوف زدہ کیوں ہے؟ بھارت مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور پابندیوں کا جواب دے۔کیا بھارت کو اتنی ہمت ہےکہ انسانی حقوق کی رپورٹ کا جواب دے سکے؟انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے جنرل اسمبلی فورم پر کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا تاہم بھارت نے جو چھپایا وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اسے اجاگر کیا اور بھارت کا سفاک چہرہ بے نقاب کیا۔سفارتکار ذوالقرنین چھینہ نے مودی کے خطاب کے بعد جواب الجواب میں یہ بھی بتایا کہ گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو نے پاکستان میں دہشتگردی کا خود اعتراف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سرکار آر ایس ایس کے نظریےکو فروغ دے رہی  ہے، مہاتما گاندھی کے قاتل سیکیولر بھارت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی 74 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جس پر دنیا بھر میں انہیں سراہا جارہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی نفری تعینات کی اور کرفیو لگاکر 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا۔ان کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افرادکو جانوروں کی طرح بند کیا ہوا ہے، یہ نہیں سوچا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو کیا ہوگا، دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی منڈی ہے، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھنے پر خونریزی ہوگی، دنیا نے سوچا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا کشمیریوں پر کیا اثر ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں لاکھوں کشمیری آزادی کی تحریک میں جان دے چکےہیں، مقبوضہ وادی میں 11ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایاگیا،بھارتی حکومت نے 13 ہزار کشمیری نوجوانوں کو مختلف جیلوں میں قید کررکھاہے۔عمران خان نے دنیا کو ایک ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہیں کی تو دو جوہری ملک آمنے سامنے ہوں گے، اس صورتحال میں اقوام متحدہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اگر پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتاہے، یہ وقت اقوام متحدہ کی آزمائش کا ہے،کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں