ایک باتھ روم کے لیے25ہزار ڈالرز کی منظوری؟ انصار عباسی کی خبر کی اصل حقیقت جانیں

21جولائی کو انگریزی اخبار دی نیوز میں ایک خبر لگائی گئی جس کے مطابق نیویارک میں قائم اقوام متحدہ میں اپنے مستقل مندوب کی سرکاری رہائش گاہ کے باتھ روم کی تزئین و آرائش کیلئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے 25 ہزار ڈالرز (42 لاکھ روپے) خرچ کرنے کی منظوری دی ہے۔صحافی انصار عباسی نے ذرائع سے خبر دی کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے نام پر پہلے ہی سفارت خانے کے اکاؤنٹ سے 50 ہزار ڈالرز خرچ کیے جا چکے ہیں اس ضمن میں 2 لاکھ 25 ہزار ڈالرز مختص کیے جا چکے ہیں اور اب اضافی 25 ہزار ڈالرز صرف ماسٹر باتھ روم کی تزئین و آرائش پر خرچ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔انصار عباسینے دعوی کیا کہ 25 ہزار ڈالرز کی تازہ ترین منظوری ایک ایسے باتھ روم کو سجانے کیلئے کیا جانے والا وہ اضافی خرچہ ہے جو پہلے ہی اچھی حالت میں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم پہلے ہی نیویارک میں مقیم ہیں اور ان کے پاس نیویارک سے باہر رہائش گاہ تھی۔ سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کیلئے 2 لاکھ 25 ہزار ڈالرز کی رقم اضافی منظور کردہ 25 ہزار ڈالرز کے علاوہ ہے۔انصار عباسی نے خبر میں لکھا کہ ذرائع کے مطابق سفارت خانے کے اکاؤنٹ سے 50 ہزار ڈالرز پہلے ہی خرچ کیے جا چکے ہیں۔ یہ فالتو اخراجات ہیں خصوصاً ایسے حالات میں جب ملک کی معاشی صورتحال پریشان کن ہے، اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہییں، یہ اخراجات وزیراعظم عمران خان کی سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی کی بھی خلاف ورزی ہیں۔وزارت خارجہ نے اس خبر کے جواب میں تفصیل سے بتایا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی سرکاری رہائش جس عمارت میں ہے یہ ایک تاریخی عمارت ہے جو کہ 1920 میں تعمیر کی گئی تھی جسے پاکستانی حکومت نے 1965 میں خریدا تھا۔دفترخارجہ کے مطابق مقامی قوانین کے مطابق تاریخی اعتبار سے اہمیت کی حامل اس عمارت کی تزئین و آرائش اسی طریقے سے دوبارہ ہونی چاہیے تھی، اور اگر اس عمارت کو اسی انداز میں دوبارہ تیار نہ کیا جاتا تو نتیجتاً پاکستان کو جرمانے کے طور پر اس سے بھی بڑی رقم ادا کرنا پڑتی۔وزارت خارجہ کے مطابق اس تزئین و آرائش کے لیے وزارت کو13 مئی 2020 کو درخواست بھیجی گئی تھی۔ جس میں محض تزئین و آرائش نہیں بلکہ اس کی سیوریج کا کام، پلمبنگ اور سول ورکس کی منظوریاں شامل تھیں اور نیو یارک جیسے مہنگے ترین شہر میں مینٹننس کا کام بہت مہنگے داموں کیا جاتا ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ خبر میں جس 2 لاکھ 25 ہزار ڈالر کے اخراجات کا ذکر ہے وزارت کی جانب سے ایسے کوئی اخراجات نہیں کیے گئے۔ مشن کی ہدایات کے تحت ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز کے تحت درکار تمام کوڈل ضروریات کی مکمل پیروی کی گئی ہے۔ اس خبر سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ اس طرح کی معلومات کو کانفیڈینشل رکھا جاتا ہے۔ اب اس خبر کے منظر عام پر انے کے بعد کنٹریکٹرز کو پتہ چل گیا ہے کہ اس کام کے لیے پاکستان کی جانب سے کتنے پیسے خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے اب کنٹریکٹر اس رقم کے قریب ترین اپنی کوٹیشنز دیں گے جس سے اب بچت کرنا ناممکن ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں