ایف بی آر کو پہلے دو ماہ میں 67 ارب روپے ٹیکس خسارہ

سلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس وصولیوں کے خسارے سے باہر نہ نکل سکا، رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران 67 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا سامنا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کی دوسری قسط کے حصول میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران ایف بی آر کو 67 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ ایف بی آر دوماہ کے دوران 644 ارب روپے کے ہدف کے برعکس صرف 573 ارب روپے ہی وصول کرسکا ہے۔ جولائی کے دوران 10 ارب روپے جبکہ اگست کے دوران 57 ارب روپے کا ٹیکس خسارہ ہوا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پہلی سہ ماہی کے دوران 172 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف دیا تھا، ایف بی آر کو مذکورہ ستمبر کے دوران 495 ارب روپے کا پہاڑ جیسا ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنا پڑے گا، ناکامی کی صورت میں قرضے کی دوسری قسط سے قبل جائزہ اجلاس میں پاکستانی ٹیم کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پہلا جائزہ اجلاس نومبر میں متوقع ہے، مئی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان پہلے ہی جولائی میں ایک ارب ڈالر کی قسط وصول کرچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں