ایف بی آر نے افسروں کو بچانے کیلئےخزانے کے 9 کروڑ کی قربانی دیدی، سپریم کورٹ

اسلام آباد:کراچی میں جعلی کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس واپسی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے فراڈ میں ملوث فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے افسران کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر سے 3ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔ قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ 3ملزمان منیر اللہ،عبدالحمید اوراشفاق غنیو ملوث ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق کے خلاف انکوائری کے لیےسمری وزیر اعظم کا بھجوا دی ہے۔ٹریبونل نےعبد الحمید انجم کو بحال کر دیا تھا،عدالت سے استدعا ہے کہ 2ہفتوں کی مہلت بڑھائی جائے ۔
قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نےغیر تسلی بخش جواب دینے پر ایف بی آر حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اپنے ہی افسروں کو بچارہی ہے، اپنے افسروں کو بچانے کے لیے قومی خزانے کے 9کروڑ روپے کی قربانی دے دی، آپ لوگوں کو ملک کی پرواہ ہی نہیں ہے، یہ 9کروڑ ریکور کون کرے گا،نقصان پہنچانے والوں کو نوکری سے نکالنا کافی نہیں،ساری جعلی کمپنیاں ہیں، شبر صاحب یہ بتائیں یہ رقم کس کی جیب میں گئی۔عدالت کے استفسار پر چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی نے بتایا کہ ایف بی آر کے ملک بھر میں21ہزار 500ملازمین ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تباہ حال محکمہ ہے آپ کا، ایف بی آر کی پبلک سروس کہاں ہے، جن لوگوں نے نو کروڑ نقصان پہنچایا کیا قانون میں ان کے خلاف نکالنا ہے یا سزا بھی ہے؟جس پر ایف بی آر حکام نے جواب دیا کہ جی صرف سزا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف بی آر کے رولز دکھائیں، قانون میں ریکوری اور5سال جیل کا لکھا ہے۔ عدالت نے فراڈ میں ملوث منیر اللہ،عبدالحمید اوراشفاق غنیو کے خلاف کارروائی کیلئے ایف بی آر کو 3ماہ کا وقت دیتے ہوئے ڈاکٹر اشفاق غنیوکے خلاف کارروائی کی پیش رفت رپورٹ 2ہفتے میں جمع کرانے حکم دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں