‘آگ میں ڈالو ایسے امیج کو اور طاہر صاحب کو بھی’، مصدق ملک کی گفتگو پر تنقید

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما مصدق ملک نے اپنے بیان میں ایک صحافی کو آگ میں ڈالنے کہا جس کے بعد سے ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ‘یہ طاہر صاحب کون ہیں میں نہیں جانتا، کیا وہ کسی تنظیم کے سربراہ ہیں؟ وہ ٹی وی پر آکر کہتےہیں کہ پی آئی اے میں مسائل کی نشاندہی سے ہمارا انٹرنیشنل امیج تباہ ہوگیا ہے’۔سینیٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ ‘ہمیں ایسے امیج کو آگ میں ڈالنا چاہیے اور ساتھ ہی طاہر صاحب کو بھی آگ میں ڈالنا چاہیے جو ٹی وی پر آکر اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور ہم سب کا مذاق اڑاتے ہیں’۔مصدق ملک نے کہا کہ ‘ہمارا طیارہ تباہ ہوا کیا ہمیں تحقیقات نہیں کرنی چاہیے اور اگر کوئی ناکامی ہے تو کیا ہمیں ذمہ دار کا تعین نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں واقعے کی تہہ تک نہیں جانا چاہیے؟’مصدق ملک کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد صحافی طاہر عمران نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں طاہر عمران نے کہا کہ ‘لائیو ٹی وی شو پر مصدق ملک نے میری ذات پر حملہ کیا اور مجھے زندہ جلانے کی بات کرکے انہوں نے میرے خلاف تشدد پر اکسایا’۔طاہر عمران نے کہا کہ ‘میں ان صاحب کی نفرت انگیز گفتگو سن کر دنگ ہوں جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے’۔

مصدق ملک کی معافی

معاملہ گرم ہونے پر مصدق ملک نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور صحافی سے معذرت بھی کی۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مصدق ملک نے کہا کہ میں نے اپنا وہ کلپ دیکھا اور میں اپنے الفاظ پر معذرت خواہ ہوں جو میں نے جذبات میں بہہ کر ادا کردیے تھے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے میں ایک دوست دیگر لوگوں کے ہمراہ زندہ جل گیا، اس کی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں۔مصدق ملک کی معافی کے بعد صحافی طاہر عمران نے بھی معاملے کو رفع دفع کرتے ہوئے کہا کہ خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرلی، میری ہمدردی لواحقین کے ساتھ ہیں اور میں بھی چاہتا ہوں کہ جامع تحقیقات ہوں۔خیال رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والی پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کا طیارہ ائیرپورٹ سے چند سیکنڈز کے فاصلے پر آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 97 افراد جاں بحق اور دو محفظ رہے تھے۔اس حادثے کے بعد پی آئی اے میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں اور جعلی لائسنسز کا معاملہ دوبارہ گرم ہوگیا ہے اور معاملہ سپریم کورٹ میں بھی پہنچ گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں