انڈین ائر فورس میں رافیل طیارے کی انڈکشن

انڈین ائر فورس میں بھی پاک فضائیہ کی طرح جدید ممالک سے خریدے گئے مختلف طیارے موجود ہیں جن میں جیگوار، میراج 2000، سو خوئی 30، مگ21اور مگ27وغیرہ شامل ہیں۔ کل بھارت کے وزیر دفاع فرانس پہنچے اور 36رافیل میں سے پہلے رافیل کی ڈلیوری حاصل کی۔ 2012ء میں جب انڈیا میں کانگریس کی حکومت تھی تو وزیراعظم من موہن سنگھ نے فرانس سے 126رافیل خریدنے کا سودا کیا تھا۔ ان میں سے بعض فرانس میں بنائے جانے تھے جبکہ ایک بڑی تعداد انڈیا میں (ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹڈ میں) پروڈیوس کرنے کا مشروط معاہدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اگلے سال جب مودی وزیراعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے (2015ء میں) یہ ڈیل منسوخ کر دی۔الزام لگایا گیا (یا شائد حقیقت ہی ہو) کہ متعلقہ وزراء اور ائر فورس کے سینئر افسروں نے اس ڈیل میں اربوں روپے کی رشوت لی تھی…… برسبیل تذکرہ یہ رشوت لینی ہی پڑتی ہے…… جب کوئی ترقی پذیر ملک کسی ترقی یافتہ ملک سے بھاری ہتھیاروں کا سودا کرتا ہے تو رشوت ضرور لیتا ہے(پاکستان میں ایڈمرل منصورالحق کا کیس اس کا بین ثبوت ہے) اس رشوت کو گلوبل کاروباری اصطلاح میں کمیشن کہا جاتا ہے۔بعض ترقی پذیر ممالک یہ کمیشن لے کر اپنی سرکار کے خزانے میں جمع کروا دیتے ہیں جبکہ بعض خود اپنے ’خزانے‘ بھرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایڈمرل منصور نے اپنا خزانہ بھرا اور آبدوزوں کی خرید میں لاکھوں ڈالر جیب میں ڈال لئے تھے۔ جب بھانڈا پھوٹا تو واپس کرکے جان چھڑانی پڑی۔ انڈیا میں بھی یہ روش عام ہے اور وزیراعظم تک اس میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کیس کی تفاصیل میڈیا پر آتی رہی ہیں اور قارئین اس سے خوب واقف ہیں۔126عدد رافیل طیاروں کی خریداری میں بھی اس کمیشن کی افواہیں عام تھیں۔ اس لئے مودی نے یہ سودا تو منسوخ کر دیا لیکن جب ان طیاروں کا بدل ڈھونڈا گیا تو معلوم ہوا یہی بدعت نئے سودوں میں بھی فالو کرنا پڑے گی۔ خزانہ ء عامرہ میں رشوت (کمیشن) جمع کروانے کا چلن ایشیائی ملکوں میں شاذ شاذ ہی دیکھنے میں آتا ہے۔مودی کو اپنے سکھ سردار صاحبان کی طرح پھر فرانس کا رخ کرنا پڑا۔ لیکن اس بار 126کی بجائے صرف 36رافیل خریدنے کا معاہدہ کیا گیا اور اپنی عادت کے برخلاف مودی نے Made in India کی بجائے ان رافیلوں کو Made in Franceہی کی ذیل میں رکھا۔ یہ 36رافیل 2022ء کے اواخر میں دیئے جانے تھے جن کی 4طیاروں پر مشتمل پہلی کھیپ مئی 2020ء میں Due تھی۔ تاہم انڈیا نے فرانس سے درخواست کی کہ ان کی ڈلیوری میں تاخیر نہ کی جائے۔فرانس کی وہ طیارہ ساز کمپنی جو یہ رافیل بناتی ہے اس کے پاس دوسرے ممالک کے آرڈرز بھی لائن میں لگے ہوئے تھے اس لئے وہ کمپنی فی الحال صرف ایک رافیل دینے پر تیار ہوئی۔مودی نے اپنے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو فرانس بھگایا کہ جاؤ اور پہلا رافیل ہی لے آؤ تاکہ اگر پاکستان کی طرف سے دوبارہ 27فروری 2019ء کا سانحہ پیش آگیا تو بھارت دنیا کو کیا منہ دکھائے گا؟ 27فروری کو پاک فضائیہ نے JF-17 کی مدد سے انڈیا کا سوخوئی۔30اور مگ 21مار گرائے تھے، پائلٹ کو گرفتار کر لیا تھا اور اگلے روز واپس انڈیا بھیج کر اپنی فیاضی کی دھاک بٹھا دی تھی۔ (اس کا ذکر ہمارے وزیراعظم نے دبی زبان میں اپنی 27ستمبر کی جنرل اسمبلی کی تقریر میں بھی کیا تھا)۔ اسی روز انڈیا نے اپنے ”دوستانہ فائر“ سے اپنا ہی ایک رشین ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا جس کا سارا عملہ ”ہلاک“ ہو گیا تھا اور الزام پاکستان پر لگایا گیا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا 7ماہ کی انکوائری کے بعد پتہ چلا کہ انڈین گراؤنڈ راڈاروں کی غلطی سے بھارتی فضائیہ کے گراؤنڈ کریو (Crew) نے ہی یہ ’کارنامہ‘ انجام دیا تھا۔اس پہلے رافیل کی سپردگی کا جو احوال انڈین میڈیا (ٹائمز آف انڈیا) اور فرنچ میڈیا (AFP) میں رپورٹ ہوا ہے وہ کافی دلچسپ ہے…… کہا گیا ہے کہ 7اکتوبر کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ فرانس پہنچے۔جو کارخانہ یہ رافیل طیارے بناتا ہے اس کا نام ڈسالٹ ایوی ایشن ہے۔ نقشے پر دیکھیں تو یہ فیکٹری بورڈو (Bordeaux) نامی شہر میں واقع ہے جو فرانس کے جنوب مغرب میں ایک بہت معروف صنعتی شہر ہے اور طیاروں کی پروڈکشن کے حوالے سے امریکہ کے بوئنگ اور F-16 بنانے والے شہروں کا ہم پلہ ہے۔ مودی نے ستمبر 2016ء میں 36رافیلوں کا جو معاہدہ کیا تھا اس کی لاگت 59000کروڑ بھارتی روپے تھی (اسے پاکستانی یا امریکی کرنسی میں خود تبدیل فرما لیں۔ شائد یہ 9.4 بلین ڈالر بنتی ہے) چار طیاروں کا پہلا دستہ مئی 2020ء میں Due تھا لیکن جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا مودی نے یہ سوچا کہ اگر 27فروری کی طرح کا کوئی دوسرا سانحہ پھر دہرایا گیا تو اس کی خفت اَنمٹ ہو گی۔ چنانچہ اس ڈلیوری کو تعجیلی بنیادوں پر ارینج کیا گیا۔8اکتوبر انڈین ائر فورس کی سالگرہ کا دن بھی ہے چنانچہ اس پوّتر دن کو بھارت نے یہاں فرانس میں بڑی شان سے منایا۔ یہ دن ہندوستان بھر میں دسہرہ منانے کا دن بھی ہے۔ رامائن اور مہابھارت میں لکھا ہے کہ راجہ رام چندر جی جب 14سال کا بن باس کاٹ کر اور لنکا میں راجہ راون پر فتح پانے کے بعد واپس راجدھانی پہنچے تھے تو اہلِ ہند نے لنکا کے راجہ راون پر فتح پانے کی خوشی میں جو تقریب منائی تھی اسے دسہرہ کہا جاتا ہے۔ ہم بچے تھے جب پاک پتن میں ایک بڑے سے میدان میں ہندو یہ تہوار منایا کرتے تھے۔ یہ میدان میاں علی محمد خان آف بسی شریف والے کی کوٹھی سے تھوڑا سا آگے جا کر چناروں والے کھوہ کے پاس تھا۔وہاں راون کا پتلا جلایا جاتا تھا اور کافی شور و غل کا سماں ہوتا تھا، اور 8اکتوبر کا یہ ڈبل شدھ اور پوّتر دن، مودی نے اسی لئے چنا…… آخر RSS کی روایات اور ”مہان بھارت“ کا سندیسہ بھی تو بین الاقوامی برادری کو دینا تھا……لیکن جب ڈسالٹ ایوی ایشن کے اعلیٰ آفسر اپنے رافیل کی ڈلیوری دینے کے لئے مقرر کردہ ائر فیلڈ پر جمع ہوئے تو دیکھا کہ راج ناتھ سنگھ کو طیارے کے عقبی کاک پٹ میں بٹھا کر بیلٹوں سے ’کَسا‘ جا رہا ہے اور پائلٹ ہلمٹ بھی زیب سر کیا جا رہا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد رافیل راج ناتھ سنگھ کو لے کر فضا میں بلند ہوا اور آواز سے تیز رفتار سے قلابازیاں وغیرہ لگانے لگا۔ اسے ڈسالٹ فیکٹری کا ٹیسٹ پائلٹ (Phillippe) اڑا رہا تھا۔ طیارہ ساز اور طیارہ فروش کمپنیاں اپنے ہاں اس طرح کے ماہرین تجربہ کار پائلٹوں کو تیار رکھتی ہیں تا کہ خریداروں کو پھانسا جا سکے۔ چنانچہ جب وزیر دفاع نے واپس لینڈ کیا تو میڈیا کے سامنے جو بیان دیا وہ یہ تھا: ”ہماری ائر فورس دنیا کی چوتھی بڑی ائر فورس ہے (امریکہ،روس اور چین کے بعد) اور بڑی طاقتور بھی ہے۔ مجھے یقین ہے اس سروس کو یہ ”میڈیم ملٹی رول کمبٹ ائر کرافٹ‘ مزید طاقتور بنا دے گا اور ہم اپنے خطے (Region) میں فضائی غلبہ حاصل کر سکیں گے اور امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکیں گے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی زبان میں رافیل (Raphale) کا مطلب اردو میں ’آندھی‘ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ طیارہ اپنے نام کی مناسبت سے اسم بہ مسمّی ٰثابت ہو گا۔“انڈین وزیر دفاع نے رافیل میں سوار ہونے سے پہلے ”شاسترا پوجا“ کی رسم بھی ادا کی۔ یہ شاستراپوجا دراصل دسہرہ کی تقریبات کا ایک حصہ ہے۔ رام چندر کی راون پر فتح میں ہنومان جی کی فوج نے جو ہتھیار استعمال کئے تھے وہی لنکا ڈھانے میں کام آئے تھے۔ اس لئے بھارتی افواج میں ہر نئے اور بھاری ہتھیار کو انڈکٹ کرنے سے پہلے اس کی ”پوجا“ کی جاتی ہے۔راج ناتھ سنگھ کو وشواش تھا کہ یہ نیا ہتھیار (رافیل) بھی دشمنوں (پاکستان اور چین) پر وجے حاصل کرنے میں ویسا ہی رول ادا کرے گا جیسا ہنومان نے راون پر کیا تھا۔اس ”شاسترا پوجا“ کے دوران بھارتی وزیر دفاع نے طیارے کے ماتھے پر ’اوم‘ کی بِندی بھی لگائی، پھولوں سے طیارے کے اگلے حصے کو لاد دیا گیا اور ایک ناریل توڑ کر اس کا ”پوتر پانی“ طیارے پر چھڑکا گیا…… پھر اس پر بھی بس نہ کی گئی بلکہ طیارے کے لینڈنگ گیئر (ٹائروں) میں لیمووں کے ڈھیر لگا دیئے گئے…… رافیل کے ربڑ کے قدموں میں لیموں نچھاور کرنے کی رسم بھی دسہرہ کی رسومات کا حصہ تھی۔
طیارے کو ترنگا (بھارتی پرچم) اڑھایا گیا اور پنڈتوں نے اس موقع پر بھجن وغیرہ بھی گائے۔ جب یہ سب کچھ کیا جا رہا تھا تو ڈسالٹ کمپنی کے آفیسرز اور سارے تکنیکی ماہرین کھڑے بِٹ بِٹ دیکھ رہے تھے کہ یہ کیا تماشا کیا جا رہاہے۔ان کا خیال تھا کہ یہ کھڑاگ انڈیا میں جا کر بھی تو کھڑا کیا جا سکتا تھا۔ دیارِ غیر (اور وہ بھی فرانس) میں یہ جگ ہنسائی کیا ضروری تھی۔ لیکن مودی پہلوان کے پٹھوں کو کون سمجھائے کہ آج کے گلوبل دنگل میں اترنے کے لئے نہ کسی پہلوان کے ماتھے پر تلک لگایاجاتا ہے،نہ ناریل توڑا جاتا ہے اور نہ اس کے قدموں میں لیموں بچھائے جاتے ہیں۔یہ 36طیارے جب 2022ء میں بھارت پہنچیں گے تو بیشتر کو انبالہ ائر فورس بیس پر سٹیشن کیا جائے گا جو پاکستانی سرحد کے نزدیک ہے۔چند ایک کو چین کے بارڈر پر ہاسی مارا (Hasimara) ائر بیس پر رکھا جائے گا جو مغربی بنگال کی ریاست میں واقع ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا ایک سابق انڈین ائر چیف نے یہ بڑھک بھی ماری تھی کہ انڈیا اب پاکستان اور چین دونوں کو بیک وقت کاؤنٹر کر سکتا ہے۔ پاکستان کو کاؤنٹر کرنے کا مظاہرہ تو ہم نے (اور ساری دنیا نے) 27فروری کو دیکھ لیا تھا البتہ چین سے نمٹنے کی نوبت ہنوز باقی ہے…… چینی صدر شی جن پنگ کل (بروز جمعہ) انڈیا کی وزٹ پر آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ 200چینی ماہرین کا ایک جم غفیر بھی ہو گا جو چنائی (مدراس) کے ہوائی اڈے پر لینڈ کرے گا…… جی چاہتا ہے اگلا کالم اسی موضوع پر لکھوں …… وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کے فوراً بعد اگلے روز چینی صدر کا انڈیا کا دورۂ چین بڑا معنی خیز اور ان کے گلوبل سٹرٹیجک وژن کا آئینہ دار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں