امریکا نے پہلی بار ایرانی خلائی ایجنسی پر پابندیاں لگا دیں

واشنگٹن : (ویب ڈیسک) امریکا نے پہلی بار ایران کی خلائی ایجنسی اور دو مزید اداروں پر پابندیاں لگا دی۔ جس خلائی ایجنسی پر پابندی لگائی گئی ہیں وہ تہران کا ایک سویلین ادارہ ہے۔یر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران اور امریکا میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں تاہم معاملات مذاکرات کی بجائے خوفناک صورتحال اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں، ایک روز قبل ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اگر امریکا ایران کیساتھ بات چیت چاہتا ہے تو پہلے پابندیاں اُٹھائے جو عائد کی ہوئی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوا بات چیت کے حوالے سے بہت سی پیشکش کی گئی ہیں مگر ہمارا جواب ہمیشہ نہ میں ہو گا۔
اب خبر آئی ہے کہ امریکا نے پہلی بار ایران کے خلائی ایجنسی پر بھی پابندی لگا دی ہیں، جس ایجنسی پر پابندی لگائی گئی ہیں یہ ایک سویلین ادارہ ہے، اس کے علاوہ ٹرمپ حکومت نے دو دیگر ایسی ایرانی تحقیقی تنظیموں پر بھی پابندیاں لگائی ہیں جن پر بیلسٹک میزائل بنانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے کا مزید کہنا تھا کہ نئی امریکی پابندیوں کا فیصلہ امریکی دفتر خارجہ اور محکمہ خزانہ نے ملکر کیا۔ مجموعی طور پر تین ایرانی اداروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ ایرانی خلائی ایجنسی، ایرانی خلائی تحقیقاتی مرکز اور خلا بازی سے متعلق ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق نئی پابندیوں کے تحت ان اداروں کے ساتھ تعاون کرنے والے کسی بھی فرد کو مجرم قرار دے دیا جائے گا۔
حالیہ پابندیوں کے حوالے سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایران کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ اپنے خلائی پروگرام کی آڑ میں بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کو آگے بڑھائے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق ایرانی خلائی ایجنسیوں پر لگائی حالیہ تعزیرات ان پابندیوں کا حصہ ہیں جو ایرانی جوہری پروگرام کو روکنے کیلئے عائد کی گئی ہیں۔ ایران اسپیس ایجنسی، ایران اسپیس سینٹر کے ساتھ خلائی پروگرام کے لیے تحقیق اور ڈویلپمنٹ پر کام کرتی ہے لیکن دونوں ایجنسیاں ’شاہد ہیمت‘ نامی صنعتی گروپ کے ساتھ کام کر رہی ہیں جس پر امریکا نے پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔
دوسری طرف ایسٹروناٹک ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے متعلق امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ ادارہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرتا ہے۔ اس لیے ان ایجنسیوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔اُدھر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران خلائی پروگرام کی آڑ میں ہتھیار بنانے پر کام نہیں کر رہا۔ امریکا پابندیاں لگانے کا عادی ہے یہ پابندیاں غیر مؤثر ثابت ہونگی اور ایران ان پابندیوں کو مسترد کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں