آصف زرداری پرجان لیوا حملے کا خدشہ

اہور : سابق صدر آصف علی زرداری پر دہشت گرد حملے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری پر دہشت گرد حملے کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں نے سابق صدر کو سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری پر جان لیوا حملہ ہونے کا خدشہ ہے۔سیکیورٹی ادروں نے عدالت پیشی پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کے بعد سکیورٹی پلان کو از سر نو ترتیب دینے کے لئے انتظامیہ کو ہدایات کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ اسی سلسلے میں معروف صحافی حامد میر کا اپنے حالیہ کالم میں کہنا تھا کہ میری رائے میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو بڑھایا جائے گا۔جمعیت علمائے اسلام کے ڈپٹی سکریٹری جنرل مولانا محمد حنیف کی ایک بم دھماکے میں شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں۔اس واقعے سے ریاست اور اپوزیشن کی اہم جماعت میں مزید غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی دینی قوتوں کو بھڑکانے کی کوشش لگتی ہے۔۔دشمن صرف باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بھی حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اور اندر سے حملے روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اپنے گھر کے اندر دشمن کے خلاف متحد ہو جائیں۔حکمرانوں کے خوشامدی ہھر کہیں گے کہ میں کسی کے لیے این آر او مانگ رہا ہوں لیکن میں پھر کہوں گا کہ آپ سے کوئی این آر او نہیں مانگ رہا۔صرف یہ عرض ہے کہ پاکستان میں نہیں صرف آزاد کشمیر میں تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کر لیں کیونکہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور بدلتے ہوئے حالات میں قوم کی قیادت گفتار کا غازی نہیں بلکہ کردار کا غازی کر سکتا ہے۔۔خیال رہے کہ چمن بم دھماکے میں جے یوآئی ف کے رہنماء مولانا محمد حنیف شہید ہوگئے تھے جس نے سیاستدانوں کی سیکورٹی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں