آزادی مارچ….چہ معنی دارد؟

12اکتوبر 1999ء کے مارشل لاء سے پہلے کی بات ہے، بین الاقوامی میڈیا کا ایک گروپ پاکستان آیا اور اس نے پورے ملک کے مختلف شعبوں کا سروے کیا اور دیکھا کہ حالات دگرگوں ہیں، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، بے روزگاری کا غلغلہ ہے، ملیں بند ہیں، بازار ویران ہیں، دہشت گردی عام ہے، سٹریٹ کرائمزکا زور ہے، چوریاں، ڈکیتیاں، راہزنیاں کھلے بندوں ہورہی ہیں اور لوگ حیران و پریشان ایک دوسرے کی صورت تک رہے ہیں۔یہ سروے کرتے ہوئے جب وہ ٹیم اسلام آباد پہنچی تو انہیں احساس ہوا کہ دارالخلافہ میں تو کوئی فکر فاقہ ہی نہیں ہے، ہر کوئی چین کی بنسری بجارہا ہے، بیوروکریسی کسی افراتفری کی شکار نہیں ہے اور کسی کی زبان پر عوام پر طاری بے چینی کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس گروپ میں سے ایک صحافی نے ایک سنیئر بیوروکریٹ کو پوچھا کہ ملک بھر میں اس قدر بے یقینی ہے اور لگتا ہے کہ پاکستان بری طرح عدم استحکام (instability)کا شکار ہے لیکن آپ کی باتوں سے یوں لگتا ہے، کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے تو اس سنیئر بیوروکریٹ نے مسکراتے ہوئے انگریزی میں جواب دیا کہ This is a managed instability۔ یہی جملہ اس سروے رپورٹ کا اختتامی جملہ تھا۔آج آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو میڈیا پر بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان مدینے کی ریاست بننے جا رہا ہے، امریکہ ہماری ثالثی کے لئے تیار ہے، اقوام متحدہ میں وزیر اعظم نے تاریخی تقریر کرکے بھارت کے ڈانٹ کھٹے کردیئے ہیں اور اقوام متحدہ کسی بھی لمحے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کا اعلان کرنے جا رہا ہے، نہ تاجر کو ئی ہڑتال کر رہے ہیں، نہ ہی صنعتوں کی تالہ بندی ہو رہی ہے، ملک میں بے روزگاری ہے نہ غربت اورعدالتوں میں انصاف کا بول بالا ہے، حالانکہ زمینی حقائق قطعی طور پر اس کے برعکس ہیں، مگرایک ایسا مصنوعی استحکام دکھایا جا رہا ہے جس کو دیکھ کر کہنا پڑجاتا ہے کہ This is a managed stability۔جس طرح مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت کیا تھا اسی طرح جب وزیراعظم عمران خان اور ان کے حامی کہتے ہیں کہ سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیلشمنٹ آپس میں میثاق آمریت کرچکی ہیں، یعنی کل کا چارٹر آف ڈیموکریسی آج کے چارٹر آف ڈکٹیٹر شپ میں بدل چکا ہے، اسی لئے تو قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں عمران خان کو مخاطب ہوتے ہوئے کہاتھا کہ You are not a dictator،لوگوں کو دھمکیاں دیتے پھرتے ہو کہ میں اندر کردوں گا۔ مگر بعد میں سب نے دیکھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے تھے کہ مجھے اندر کرو، چنانچہ ہم نے اسے اندر کروادیا۔
اس عالم میں مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ چہ معنی دارد؟ لفظ آزادی پر غور کریں تو لگتا ہے کہ مولانا حکومت گرانے کی بجائے یا پھر انتخابی دھاندلی پر کسی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس ملک میں لوگوں اور اداروں کے بنیادی حقوق بحال کروانے کے لئے نکل رہے ہیں کیونکہ آزادی مارچ، بلاول کی دھمکیوں اور نوازشریف کی درخواست ضمانت کی سماعت ایک ساتھ شروع ہو رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آزادی مارچ سے دھاندلی زدہ حکومت کو تو کچھ نہ ہو مگر وہ جن کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں، وہ اب سے تین ماہ بعد جیلوں سے آزاد ہو جائیں، اسی سے عوام کی بے یقینی ختم ہوگی اور ملک میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی،وگرنہ جہاں تک یقین دہانیوں کا تعلق ہے تو تھوک سے پکوڑے نہیں تلے جاسکتے۔ایسا نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے متوالے یا پیپلز پارٹی کے جیالے وہ تماشہ نہیں لگا سکتے جو مولانا فضل الرحمٰن کے مدرسوں کے طالب علم لگانے جا رہے ہیں لیکن اگر یہ دو سیاسی پارٹیاں متحرک ہوتی ہیں تو یہ پوری سرگرمی ایک سیاسی رنگ اختیارکرجا ئے گی۔ البتہ مذہبی حلقوں کے سرگرم ہونے سے سیاسی گرما گرمی کا وہ عالم نہیں ہوگا اور اس کے ملکی سیاست پر دور رس نتائج مرتب نہیں ہوں گے، جیسے کہ جونہی پی ٹی آئی پر تنقید ہوتی ہے کہ اس نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا، پی ٹی وی پر قبضہ کیا تھا اور وزیر اعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگی تھیں تو وہ فوری طور پر بتاتے ہیں کہ یہ سب کچھ تو علامہ طاہرالقادری کے مریدوں نے کیا تھا، یوں بات میں موجود سیاسی تلخی ختم ہوجاتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے طے کرلیا ہے کہ انہوں نے ایک سال کا جو وقت پی ٹی آئی کی حکومت کو لے کر دیا تھا اب اس سے آگے اس کوگود میں اٹھائے رکھنے سے بات نہیں بنے گی اور بہتر ہے کہ ملک میں بھرپور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے، میڈیا پر عائد قدغنیں ختم کی جائیں اور باقی اداروں کو کھل کر کام کرنے دیا جائے تاکہ ملک میں روٹین کی سرگرمیاں بحال ہوں اور پاکستان آگے بڑھے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں