آزادی مارچ میں شرکت کے معاملے پر مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی

لاہور : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کرنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن میں پہلے بھی کئی اختلافات ہیں جس کی وجہ سے پارٹی میں دھڑے بندی اور گروپنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے تاہم اب مولانا فضل الرحمان کے مارچ کے معاملے پر مسلم لیگ ن دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔پارٹی صدر شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا تنویر حسین،احسن اقبال نے جے یو آئی کے آزادی مارچ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ہمیں محاذ آرائی سے کام نہیں لینا چاہئیے۔ ان رہنماؤں نے سوالات اُٹھائے ہیں کہ اگر مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور لاک ڈاؤن ناکام ہوگیا تو اپوزیشن کی کیا پوزیشن ہو گی ؟ مسلم لیگ ن میں شہباز شریف کے بیانیے کا ساتھ دینے والے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی میں ناکامی کی مثال ہمارے سامنے ہے، مسلم لیگ ن کو ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو محاذ آرائی سے بچانا اور جمہوری و پارلیمانی نظام چلنے میں مدد فراہم کرنی چاہئیے۔لیکن دوسری جانب محاذ آرائی اور مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں شرکت کے حامی رہنماؤں میں سینیٹر مشاہد اللہ خان سمیت نوجوان پارلیمنٹرینز گروپ جنہیں مریم کی ٹیم سمجھا جاتا ہے، شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں نے مارچ میں شرکت کے حوالے سےپارٹی کے سینئرز کی رائے کو یکسر مسترد کردیا اور برملا کہا کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان کا ہر صورت ساتھ دینا چاہئیے ، جیسا کہ میاں نواز شریف ہدایت کر چکے ہیں، بیک آؤٹ کرنے سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔میاں جاوید لطیف، میاں منان، مرتضیٰ جاوید عباسی، نور الحسن تنویر، محمد زبیر نے برملا اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مصلحت کی سیاست سے پہلے ہی نقصان اٹھا چکے ہیں، مشاہد اللہ خان اور مرتضیٰ جاوید عباسی نے استفسار کیا کہ اگر قیادت نہ نکلی اور کارکنوں نے آزادی مارچ میں شمولیت اختیار کر لی تو ن لیگ کہاں کھڑی ہوگی ؟ ذرائع کے مطابق خواجہ آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں مذہبی کارڈ استعمال نہیں کرنا چاہئیے، مولانا فضل الرحمان کی چھتری تلے احتجاج مذہبی رجعت پسندی کے مترادف ہوگا۔انہوں نے تجویز دی کہ ہمیں جے یو آئی یا پیپلزپارٹی سے الگ ن لیگ کے پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف ایک تحریک شروع کرنی چاہئیے۔ شہباز شریف نے لانگ مارچ اور آزادی مارچ کے خلاف مؤقف اختیار کیا اور آزادی مارچ کے التواء کے حق میں دلائل دیئے۔ انہوں نے مارشل لاء کے خدشہ کا بھی اظہار کیا جس کے جواب میں ہارڈ لائنر گروپ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے لئے پہلے ہی مارشل لاء ہے، ہمیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، لیڈر شپ جیل میں ہے، ن لیگ میڈیا سے مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے، ہمیں کسی دباؤ یا مصلحت کا شکار ہونے کی بجائے واضح اور بولڈ لائن لینی چاہئیے، باہر نکلنے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے البتہ وقت کے تعین اور طریقہ کار پر مشاورت ہوسکتی ہے لیکن مارچ میں شرکت نہ کرنا ن لیگ کے لئے سیاسی موت ہوگی۔جس کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مریم نواز کے جارحانہ بیانیے کو لے کر آگے چلنے والے لوگ شہباز شریف کے گروپ پر ایک مرتبہ پھر سے حاوی ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف جہاں مصالحت کی پالیسی اپنانا چاہتے ہیں وہیں مریم نواز مصالحت کے نہ تو حق میں ہیں اور نہ ہی وہ اپنی جارحانہ پالیسی سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں